آر ٹی سی ملازمین اور ارکان خاندان کو علاج سے محروم رکھنا غیر انسانی

   

محمد علی شبیر کی تنقید، تارناکہ میں آر ٹی سی ہاسپٹل حکام کو کس نے ہدایت دی؟
حیدرآباد۔9۔ اکتوبر ( سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر محمد علی شبیر نے تارناکہ آر ٹی سی ہاسپٹل میں آر ٹی سی ملازمین کے علاج کو روک دینے پر سخت تنقید کی ۔ انہوں نے حکومت کے اس فیصلہ کو غیر انسانی قرار دیا ۔ واضح رہے کہ آر ٹی سی ملازمین کی برطرفی کے نام پر تارناکہ ہاسپٹل میں علاج کی سہولتیں فراہم کرنے سے انکار کیا جارہا ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ایسے وقت جبکہ شہر میں وبائی امراض عروج پر ہیں ، آر ٹی سی ملازمین اور ان کے ارکان خاندان کو طبی سہولتوں سے محروم کرنا افسوسناک اور غیر انسانی ہے۔ ایسے وقت تو حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ مزید بہتر سہولتیں فراہم کرتیں تاکہ آر ٹی سی ملازمین کے ارکان خاندان وبائی امراض سے محفوظ رہتے۔ انہوں نے چیف منسٹر سے سوال کیا کہ ہاسپٹل کے حکام کو آخر کس نے علاج روکنے کی ہدایت دی ہے ۔ آر ٹی سی ملازمین کی سہولت کے لئے یہ ہاسپٹل قائم کیا گیا اور اگر علاج بند کرنے سے کوئی ناگہانی واقعہ پیش آیا تو اس کے لئے راست طور پر چیف منسٹر ذمہ دار ہوں گے ۔ حکومت کی جانب سے 48,000 سے زائد ملازمین کی برطرفی کے اعلان کے بعد انہیں علاج و معالجہ کی سہولتوں سے محروم رکھنا کے سی آر حکومت کی ڈکٹیٹرشپ کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کو بہتر علاج کی سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور آر ٹی سی ملازمین نے تلنگانہ تحریک میں سرگرم حصہ لیتے ہوئے نئی ریاست کی تشکیل کو یقینی بنایا۔ تلنگانہ تحریک میں قربانیاں دینے والے آر ٹی سی ملازمین اور ان کے ارکان خاندان کے ساتھ اس طرح کا رویہ شرمناک ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ تنخواہوں اور علاج سے محروم رکھتے ہوئے ہڑتالی ملازمین کے حوصلوں کو پست نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری دواخانوں میں ہر کسی کو بہتر علاج کی سہولت ملنی چاہئے ۔ آر ٹی سی ملازمین اور ان کے ارکان خاندان کیوں اس سہولت سے محروم رہے جبکہ وہ کئی برسوں سے حکومت کی خدمت کر رہے ہیں۔ ملازمین کی ہڑتال کا بدلہ ان کے افراد خاندان سے لینا انتہائی افسوسناک اور کے سی آر کے تکبر کو ظاہر کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک ظالم اور جابر حکمراں ہی عوام کو بنیادی طبی سہولتوں سے محروم رکھنے کا فیصلہ کرسکتا ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ آر ٹی سی کا قیام دراصل نظام دور حکومت کی دین ہے۔ نظام نے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے جو اقدامات کئے تھے ، اسی کا تسلسل آج بھی برقرار ہے ۔ خود کو موجودہ وقت کے نظام قرار دینے سے کے سی آر گریز نہیں کرتے لیکن ان کے فلاحی اقدامات کو جاری رکھنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ کانگریسی قائد نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں آر ٹی سی ملازمین کے ساتھ ہیں اور وہ دن دور نہیں جب دیگر محکمہ جات کے ملازمین بھی حکومت کے خلاف آواز بلند کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال دراصل کے سی آر حکومت کے زوال کا آغاز ہے ۔