آر ٹی سی ملازمین سے عثمانیہ یونیورسٹی طلبہ جے اے سی کا اظہار یگانگت

,

   

کیمپس میں اجتماعی پکوان و طعام کھمم بند کی تائید کا اعلان، حکومت پر طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کا الزام

حیدرآباد۔13اکٹوبر(سیاست نیوز) آر ٹی سی ملازمین کی ہرتال سے اظہار یگانگت کرتے ہوئے جامعہ عثمانیہ طلبہ جے اے سی کی جانب سے احتجاج کرتے ہوئے سڑک پر کھانا پکانے کے علاوہ طعام کا اہتمام کیا گیا اور حکومت تلنگانہ کے خلاف نعرہ لگائے گئے ۔تلنگانہ طلبہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ریاستی حکومت کی جانب سے اختیارکئے گئے موقف کی مذمت کرتے ہوئے احتجاج میں شدت پیدا کرنے کا انتباہ دیا اور آر ٹی سی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے 14 اکٹوبر کو کھمم بند کی مکمل تائید کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تلنگانہ تعلیمی ادارو ںکی تعطیلات میں توسیع کرتے ہوئے طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کا سبب بن رہی ہے اور حکومت کی جانب سے کئے گئے وعدوں کو مکمل نہ کرتے ہوئے حکومت نے صورتحال کو ابتر بنا دیا ہے۔جوائینٹ ایکشن کمیٹی سے تعلق رکھنے والے طلبہ قائدین نے کہا کہ تحریک تلنگانہ کے دوران عام ہڑتال کی طاقت کے سبب آج کے چندر شیکھر راؤ اقتدار میں ہیں اوراگر وہ ملازمین اور طلبہ کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں تو جس طرح انہیں اقتدار حاصل ہوا ہے اسی طرح انہیں اقتدار سے بیدخل کرنے کی بھی مہم چلائی جائے گی ۔ جامعہ عثمانیہ طلبہ جے اے سی نے آر ٹی سی ہڑتالی ملازمین سے اپیل کی کہ وہ مایوس ہوتے ہوئے انتہائی اقدام سے گریز کریں کیونکہ ریاست کی تشکیل طلبہ کی قربانیوں کا نتیجہ ہے اور طلبہ ان کے ساتھ ہیں۔ جامعہ عثمانیہ آرٹس کالجس کے روبرو منعقد کئے گئے اس پروگرام کے پیش نظر محکمہ پولیس کی جانب سے یونیورسٹی کے اطراف بڑے پیمانے پر بندوبست کیا گیا تھا لیکن طلبہ نے اعلان کیا کہ وہ آر ٹی سی ملازمین کے ہر احتجاجی پروگرام کا حصہ بننے کا فیصلہ کرچکے ہیں اور وہ آر ٹی سی ملازمین کے جائز مطالبات کے قبول ہونے تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔جامعہ عثمانیہ طلبہ جے اے سی نے ریاست کی دیگر ٹریڈ یونینوں سے بھی اپیل کی کہ وہ آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کی تائیدا ور ان کے احتجاج میں شامل ہونے کا فیصلہ کریں اور حکومت تلنگانہ کو مزدوروں کی طاقت سے واقف کروائیں۔