Saturday , December 7 2019

آر ٹی سی ملازمین کسی شرط کے بغیر ڈیوٹی پر رجوع ہونے تیار

Telangana State Road Transport Corporation (TSRTC) JAC convenor Ashwathama Reddy addressing Media persons at their employees Union office in Hyderabad on Wednesday. Pic:Style photo service.

ملازمین کی عزت نفس و احترام کے تحفظ اور خوشگوار ماحول کی فراہمی کی توقع، اشواتھما ریڈی کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔/20 نومبر، ( پی ٹی آئی ) تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن ( ٹی ایس آر ٹی سی ) ملازمین کی گزشتہ 47 دن سے جاری ہڑتال کی قیادت کرنے والی یونینوں نے چہارشنبہ کو کہا کہ حکومت کی جانب سے خوشگوار ماحول پیدا کرنے اور اس مسئلہ کو لیبر کورٹ کے سپرد کرنے کی صورت میں وہ اپنے کام پر رجوع ہونے کیلئے تیار ہیں۔ ٹی ایس آر ٹی سی ملازمین یونینوں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی ( جے اے سی ) کنوینر اشواتھما ریڈی نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ یونینوں کو یقین ہے کہ لیبر کورٹ میں ملازمین کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے پیر کو لیبر کمشنر سے کہا تھا کہ اس ہڑتال کے قانونی جواز کے بارے میں فیصلہ نہ کرنے یا مسئلہ کو لیبر کورٹ سے رجوع کرنے کے بارے میں اندرون دو ہفتے جواب دیا جائے۔ جے اے سی کی یہ پیشکش کانگریس ، تلگودیشم اور بی جے پی کے علاوہ دیگر چند اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے گورنر تملی سائی سوندرا راجن سے ملاقات اور ہڑتال کو ختم کرانے کیلئے ان سے مداخلت کی درخواست کے بعد منظر عام پر آئی ۔ اشواتھما ریڈی نے امید ظاہر کی کہ حکومت آر ٹی سی ملازمین کے مسائل کو لیبر کورٹ سے رجوع کرنے کے اقدامات کرے گی اور ہمیں یقین ہے کہ لیبر کورٹ میں مسائل کی یکسوئی عمل میں آئے گی۔ اشواتھما ریڈی نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران مزید کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ لیبر کورٹ میں انصاف ہوگا چنانچہ ہم ( آر ٹی سی ) انتظامیہ اور حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ تمام ضروری اقدامات کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ( ہڑتالی ملازمین ) پُرامن انداز میں کسی بھی شرط کے بغیر اپنی ڈیوٹیوں پر رجوع ہوجائیں اور ایک ایسے انداز میں یہ کارروائی کی جائے کہ اس میں ورکرس کی عزت نفس اور احترام کا تحفظ ہوسکے۔اشواتھما ریڈی نے کہا کہ ہڑتال کا مطلب ڈیوٹی چھوڑنا نہیں بلکہ حالات کو بہتر بنانے کے مقصد پر مبنی ہوتا ہے اور جے اے سی کو یقین ہے کہ حکومت تمام عدالتی احکام کا احترام کرے گی بصورت دیگر ہڑتال جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ جے اے سی کو حکومت کی طرف سے تاحال کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئی ہیں اور یونینس بذات خود ورکرس اور عوامی مفاد کو ملحوظ رکھتے ہوئے ڈیوٹیوں کی بحالی کی پیشکش کے بارے میں کوئی فیصلہ کرسکتی ہیں۔ ٹی ایس آر ٹی سی کے تقریباً 48,000 ملازمین 5 اکٹوبر سے ہڑتال پر ہیں اور ان کے مطالبات میں کارپوریشن کے ریاستی ٹرانسپورٹ محکمہ میں انضمام اور دیگر چند مسائل کی یکسوئی شامل ہے لیکن ریاستی حکومت نے ان کی ہڑتال کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ کارپوریشن ان کے مطالبات قبول کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT