گوہاٹی: آسام پولیس نے پیر کو ایک امام کو 12 سالہ بچے کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ 13 اگست کو کچل کے علاقے ڈھولئی میں دارالسلام حافظیہ مدرسہ کے ہاسٹل سے بچے کی سر کے بغیر لاش ملی تھی۔ پولیس کے مطابق امام نے اسے بدلہ لینے پر قتل کیا تھا۔ پولیس نے اتوار کو ہی ملزم امام اور وارڈن کو پوچھ گچھ کیلئے بلایا تھا۔ پوچھ گچھ کے دوران امام پر شک ہوا جس کی بنیاد پر اسے گرفتار کر لیا گیابچے کی وجہ سے امام کو انتظامیہ سے معافی مانگنی پڑی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق چند روز قبل مکل رحمان خان نامی امام نے بچے کی پٹائی کی تھی۔ وہ اسے جسمانی اور ذہنی اذیت دے رہا تھا۔ بچے نے اس کی شکایت انتظامیہ سے کی تھی جس کے بعد اسے انتظامیہ سے معافی مانگنی پڑی۔ اس نے اپنا غصہ بچے پر نکالا اور اسے مار ڈالا۔بچے کے روم میٹ کو اس کی لاش ملی تھی۔پولیس کے مطابق متوفی 6 بچوں کے ساتھ ہاسٹل کے کمرے میں رہتا تھا۔ اتوار کی صبح جب بچے نماز کے لیے اٹھے تو انہیں بستر پر نہیں ملا۔ ایسے میں جب اس کی تلاشی لی گئی تو بستر کے نیچے اس کی سر کے بغیر لاش ملی۔