کمیٹی کی حکومت کو رپورٹ پیش ‘ آئندہ اسمبلی اجلاس میں پیش کرنے کا امکان
گوہاٹی: چیف منسٹر آسام ہمانتا بسوا سرما نے کہا کہ آسام میں تعدد ازدواج پر پابندی کا مطالعہ کرنے کے لئے ریاستی حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی ماہر کمیٹی نے اتوار کو اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے۔ سرما نے ٹوئٹ کیا کہ آسام میں تعدد ازدواج کو ختم کرنے کے لیے قانون بنانے کے لیے ریاستی مقننہ کی قانون سازی کی صلاحیت کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دی گئی ماہر کمیٹی نے آج اپنی رپورٹ پیش کر دی۔ آسام اب ذات پات، نسل یا مذہب سے قطع نظر خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ایک مثبت ماحول پیدا کرنے کے قریب ہے۔خیال رہے کہ ہیمنت بسوا سرما اکثرت مسلمانوں کے خلاف بیان بازی کرنے کے لئے جانے جاتے ہیں اور وہ یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے کی وکالت بھی کرتے ہیں۔ ان کا تعدد ازدواج پر پابندی عائد کرنے کا شوشہ 2024 سے قبل بی جے پی کے لیے سازگار ماحول تیار کرنے کے مقصد سے چھوڑا گیا ہوسکتا ہے۔ماہرین کی جس کمیٹی نے رپورٹ پیش کی ہے اس کی سربراہی جسٹس (ر) رومی کماری پھوکن نے کی۔ فوکن کے علاوہ اس کمیٹی میں آسام کے ایڈوکیٹ جنرل دیوجیت سائکیا اور بی جے پی لیڈر نلین کوہلی شامل تھے۔اس سے پہلے سرما نے کہا تھا کہ آسام میں 2024 سے پہلے تعدد ازدواج پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ریاست میں تعدد ازدواج پر پابندی کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور وہ جلد ہی اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ماہرین کی کمیٹی کو رپورٹ پیش کرنے کے لیے تین ماہ کا وقت دیا گیا۔ چونکہ یہ رپورٹ اب وزیر اعلیٰ کے سامنے رکھ دی گئی ہے، اس لیے ریاستی حکومت اگلے اسمبلی اجلاس میں آسام میں تعدد ازدواج پر پابندی کا قانون لانے کے لیے اقدامات کر سکتی ہے۔