آسام میں مدارس کو اسکولوں میں تبدیل کرنے کا معاملے کو لے کر گوہاٹی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا

   

نئی دہلی: آسام حکومت کے مدارس کو اسکولوں میں تبدیل کرنے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ فروری میں گوہاٹی ہائی کورٹ نے آسام ریپیلنگ ایکٹ، 2020 کو برقرار رکھتے ہوئے کہا تھا کہ آسام میں تمام سرکاری امداد سے چلنے والے مدارس کو اسکولوں میں تبدیل کیا جائے۔ اس حکم کے خلاف محمد امداد الدین بربھویا اور دیگر نے منگل کو ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ منسوخی ایکٹ اور اس کے بعد کے حکومتی احکامات نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 25، 26، 28 اور 30 ​​کے تحت درخواست گزاروں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ گوہائی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سدھانشو دھولیا (اب سپریم کورٹ کے جج کے طور پر ترقی یافتہ) اور جسٹس سومترا سیکیا کی بنچ نے 4 فروری کو ایکٹ کی درستگی کو چیلنج کرنے والی عرضی کو خارج کر دیا تھا اور کہا تھا کہ ریاستی حکومت کی تبدیلی صرف ان مدارس کے لیے ہے جو سرکاری امداد یافتہ ہیں،ان کے لیے نہیں جن کا تعلق نجی یا کمیونٹی سے ہے۔