سڈنی۔18 اگست (ایجنسیز) آسٹریلیائی حکومت نے پیرکے دن ایک دائیں بازوکے اسرائیلی سیاستدان کا ویزا منسوخ کردیا جو ملک میں ایک تقریری دورے پر آنے والے تھے۔ سمخا رتھمین، جن کی جماعت اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے حکومتی اتحاد کا حصہ ہے، آسٹریلین جیوش اسوسی ایشن کے زیراہتمام منعقدہ پروگراموں میں شرکت کے لیے طے شدہ پروگرام کا حصہ تھے۔ تاہم وزیر برائے داخلہ ٹونی برک نے کہا کہ آسٹریلیا ایسے افراد کو ملک میں آنے کی اجازت نہیں دے گا جو تفریق پھیلانے آئیں۔ انہوں نے کہا اگر آپ آسٹریلیا نفرت اور تقسیم کا پیغام پھیلانے کے لیے آ رہے ہیں تو ہم آپ کو یہاں نہیں دیکھنا چاہتے۔ آسٹریلیا ایک ایسا ملک ہوگا جہاں ہرکوئی محفوظ ہو اور خود کو محفوظ محسوس کرے۔ ویزے کی منسوخی کی خودکار شرط کے تحت رتھمین تین سال تک آسٹریلیا کا سفر نہیں کر سکیں گے۔ رتھمین دائیں بازوکی جماعت ریلیجیس زایونسٹ پارٹی کے رکن ہیں جس کے سربراہ بیزالیل سموٹریچ پر آسٹریلوی حکومت کی جانب سے پابندیاں عائد ہیں۔ اس سال کے اوائل میں برطانیہ کے چینل4 نیوزکو دیے گئے انٹرویو میں رتھمین نے اس بات کی تردید کی تھی کہ اسرائیل کی جانب سے خوراک اور امداد پر پابندی کے سبب غزہ کے فلسطینی بچے بھوک سے مر رہے ہیں۔ جب ایک رپورٹر نے ان سے پوچھا کہ اسرائیل فلسطینی بچوں کو اسرائیل آنے کی اجازت کیوں نہیں دیتا، تو انہوں نے جواب دیاکیونکہ وہ ہمارے دشمن ہیں۔ آسٹریلین جیوش اسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹیو رابرٹ گریگوری نے کہا کہ رتھمین کے دورے کا مقصد آسٹریلیا کی یہودی برادری کے ساتھ یکجہتی ظاہرکرنا تھا ۔