آلودگی کا اہم سبب بننے والے پلاسٹک کے استعمال میں امریکہ سرفہرست

   

ہندوستان اور چین دوسرے اور تیسرے نمبر پر ، زائد آبادی کے باوجودپلاسٹک سے متعلق شعور بیداری
حیدرآباد ۔27 ۔ مارچ (سیاست نیوز) آلودگی سے دنیا کو نجات دلانے کے لئے یوں تو بین الاقوامی اداروں کی جانب سے مہم جاری ہے لیکن آلودگی کا اہم سبب بننے والے پلاسٹک کے استعمال کے معاملہ میں امریکہ سرفہرست ہے۔ امریکہ کی جانب سے دنیا کو فضائی آلودگی سے بچانے کیلئے بار بار نعرہ لگایا گیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ دنیا کا حقیقی ہمدرد ہے۔ فضائی آلودگی کی یوں تو کئی وجوہات ہیں جن میں پلاسٹک بھی شامل ہیں۔ حالیہ سروے کے مطابق پلاسٹک کے استعمال اور اس کے ویسٹ کے معاملہ میں امریکہ فہرست ہے جبکہ ہندوستان دوسرے نمبر پر ہے۔ امریکہ میں 42 ملین ٹن ناکارہ پلاسٹک جمع ہوتا ہے جو آلودگی میں اضافہ کا اہم سبب ہے۔ امریکہ میں ہر شخص کم از کم 130 کلو گرام پلاسٹک کا استعمال کرتے ہوئے آلودگی میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں پلاسٹک کے استعمال کو روکنے بڑے پیمانہ پر شعوری بیداری مہم چلائی جارہی ہے ۔ آنے والے نسلوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کیلئے آلودگی پر قابو پانا ضروری ہے ۔ پلاسٹک کے استعمال اور اس کے نقصانات کے معاملہ میں ہندوستان دوسرے اور چین تیسرے نمبر پر ہیں۔ زائد آبادی کے باوجود ہندوستان اور چین میں پلاسٹک کے استعمال کا رجحان امریکہ سے کم ہے ۔ سروے کے مطابق ہندوستان میں 26.3 ملین ٹن پلاسٹک کا فضلا تیار ہوتا ہے جبکہ ہندوستان کا ہر شخص 19.9 کلو گرام پلاسٹک کا استعمال کرتے ہوئے آلودگی میں اضافہ میں اپنا رول ادا کر رہا ہے۔ چین میں 26.6 ملین ٹن پلاسٹک ویسٹ کا تخمینہ ہے جبکہ وہاں ہر شخص 15.7 کلو گرام پلاسٹک استعمال کرتا ہے ۔ پلاسٹک کے استعمال میں برازیل اور انڈونیشیا بھی نمایاں طور پر شامل ہیں۔1