ملازمین کی کمی کی وجہ سے مشکلات ۔ کرایہ پر بسوں کے حصول کی وجہ سے مالیہ کا بوجھ ۔ کارپوریشن کی رپورٹ میں انکشافات
حیدرآباد ۔ 25جون ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے آمدنی کے معاملہ میں نیا ریکارڈ ضرور مرتب کیا اس کے باوجود کارپوریشن ہزاروں کروڑ روپئے کے نقصانات سے ہی دوچار ہے ۔ اس طرح مالیاتی سال 2018-2019ء میں ٹی ایس آر ٹی سی کو جملہ 928.67 کروڑ کے نقصانات سے دوچار ہونا پڑا ۔ اس سلسلہ میں خود کارپوریشن نے اپنی ایک جامع رپورٹ میں اس بات کا اظہار کیا ۔ ذرائع نے کہا کہ ٹی ایس آر ٹی سی نے نقصانات پر مبنی تفصیلی رپورٹ حکومت کو پیش کی ہے ۔ آر ٹی سی ذرائع نے بتایا کہ سال 2018-2019ء کے دوران کارپوریشن کو جملہ 4,88,200 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی لیکن برخلاف 5,81,067 کروڑ روپئے کے مصارف عائد ہوئے ۔ اس طرح جملہ 9,28,67 کروڑ روپئے کا ٹی ایس آر ٹی سی کو خسارہ ہوا جبکہ بتایا جاتا ہیکہ آر ٹی سی کے قیام سے اب تک اس سال سب سے زیادہ نقصانات پیش آئے ۔ ذرائع کے مطابق ریاست کی تشکیل کے پہلے سال ٹی ایس آر ٹی سی کو معمولی نوعیت کا فائدہ ضرور ہوا تھا جس سے آئندہ ٹی ایس آر ٹی سی کو خسارہ پیش نہ آنے کا نہ صرف اندازہ لگایا گیا تھا بلکہ قوی توقع کا اظہار کیا گیا تھا لیکن ایک سال کے فوری بعد مسلسل تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن خسارہ سے ہی دوچار ہوتا رہا ۔ اس کی اہم وجہ اسٹاف یعنی بالخصوص ڈرائیورس و کنڈکٹرس کی کمی بتائی جاتی ہے جبکہ گذشتہ چھ سال سے ٹی ایس آر ٹی سی میں کوئی تقررات عمل میں نہیں لائے گئے جبکہ ہمیشہ حکومت اور ٹی ایس آر ٹی سی انتظامیہ کی جانب سے آر ٹی سی کی کارکردگی کو فعال بنانے کیلئے ملازمین کے تقررات عمل میں لانے کا نہ صرف اعلان کیا گیا بلکہ واضح تیقنات بھی دیئے گئے ۔ علاوہ ازیں گذشتہ چھ سال کے دوران کارپوریشن میں ہزاروں ملازمین وظیفہ پر سبکدوش ہوئے ۔ اس طرح چھ سال سے قبل کی مخلوعہ جائیدادیں اور چھ سال کے دوران سبکدوش ملازمین کے باعث مخلوعہ جائیدادیں بڑھ کر اسٹاف کی کمی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں آر ٹی سی کے خسارہ میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔ بتایا جاتا ہیکہ اسٹاف کی کمی کے باعث کرایہ کی بسوں کے حصول میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے جبکہ بیاٹری سے چلنے والی 600 بسوں کے حصول کیلئے مرکزی حکومت سے نمائندگی کی گئی تھی لیکن وہ بسیں حاصل نہیں ہوسکیں جس کی وجہ سے اُن 600 بسوں کے بجائے اب 600 کرایہ کی بسیں حاصل کرنے کوششیں کی جانے کی اطلاعات ہیں اور ان بسوں کے حصول سے ٹی ایس آر ٹی سی میں کرایہ کی بسوں کی تعداد میں اضافہ ہوکر کارپوریشن کو خانگی شعبہ کے حوالہ کرنے پیشرفت ہونے کا خدشہ ہے ۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے خود آر ٹی سی ملازمین یونینوں کے قائدین تشویش کا اظہار کررہے ہیں اور سخت احتجاج کا آغاز بھی کیا ہے ۔
