انڈومان نکوبار میں سب سے کم قیمت، عالمی سطح پر خام تیل کی کمی کے باوجود اضافے کا رجحان باعث تشویش، عوام مہنگائی سے پریشان
حیدرآباد۔ 22 فروری (سیاست نیوز) ملک میں گزشتہ چند برسوں کے دوران مرکز اور ریاستوں کے ٹیکسوں میں اضافے کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ ملک کی ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں پٹرول کی قیمتیں مقامی ٹیکسوں اور ٹرانسپورٹیشن چارجس کی بنیاد پر علیحدہ علیحدہ درج کی گئی ہیں۔ مرکز میں بی جے پی برسر اقتدار آنے کے بعد مہنگائی پر 100 دن میں قابو پانے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بدستور اضافہ ہوا ہے۔ پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا اثر مہنگائی صورت میں منظر عام پر آتا ہے جس کے نتیجہ میں عام آدمی اور خاص طور پر غریب اور متوسط طبقات کو اضافی بوجھ کا سامنا ہے۔ ملک کی ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں انڈومان اور نکوبار میں پٹرول کی قیمت ملک میں سب سے کم ہے جبکہ اضافی قیمت والی ریاستوں میں آندھرا پردیش، تلنگانہ، کیرالا، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، راجستھان اور مہاراشٹرا جیسی ریاستیں شامل ہیں جہاں پٹرول کی قیمت فی لیٹر 100 روپے سے زائد ہے۔ انڈومان اور نکوبار میں فی لیٹر پٹرول 82.46 روپے ہے۔ اروناچل پردیش 90.92 روپے فی لیٹر کے حساب سے کم قیمت میں دوسرے نمبر پر ہے۔ آندھرا پردیش میں اگرچہ این ڈی کی حکومت ہے لیکن پٹرول کی قیمت کے اعتبار سے ریاست سرفہرست ہے جہاں فی لیٹر پٹرول 109.46 روپے ہے جبکہ تلنگانہ 107.46 روپے کے حساب سے دوسرے نمبر پر ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں ہندوستان نے ایران کے ساتھ پٹرول کی خریدی کو امریکہ کے دباؤ کے تحت بند کردیا اور روس سے تیل کی خریدی کے مسئلہ پر امریکہ کا مسلسل دباؤ برقرار ہے تاہم حکومت نے اس مسئلہ پر کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔ امریکی دباؤ اور سستے داموں پر خام تیل کی خریدی سے گریز کا اثر پٹرول کی قیمت میں اضافے کی صورت میں دکھائی دے رہا ہے جس کا راست اثر عوام پر پڑرہا ہے۔ جن ریاستوں میں پٹرول کی قیمت فی لیٹر 100 روپے سے کم ہے ان میں آسام، چندی گڑھ، دادر اور نگر حویلی، دہلی، گوا، گجرات، ہریانہ، ہماچل پردیش، جموں و کشمیر، جھارکھنڈ، کرناٹک، منی پور، میگھالیہ، میزورام، ناگالینڈ، پنجاب، پڈوچیری، اترپردیش اور اتراکھنڈ شامل ہیں۔ جن ریاستوں میں فی لیٹر پٹرول 100 روپے کے آس پاس ہے ان میں چھتیس گڑھ، اڈیشہ اور ٹاملناڈو شامل ہیں۔ خام تیل کی عالمی قیمتوں کے اعتبار سے پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا راست طور پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اثر دکھائی دیتا ہے۔ عوامی تنظیموں اور اپوزیشن پارٹیوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں کمی کے باوجود ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ اس سلسلہ میں حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اپوزیشن کا الزام ہے کہ کم قیمت کے فوائد کو عوام تک پہنچانے میں حکمراں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ 1