حیدرآباد۔/6 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے آندھرا پردیش میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم کو مقامی قراردیتے ہوئے عالم پور تحصیلدار کی جانب سے جاری کردہ مقامی سرٹیفکیٹ پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ پہلی تا دسویں جماعت کرنول اور انٹر میڈیٹ کی تعلیم کرشنا ضلع میں حاصل کرنے والے طالب علم کو میڈیسن میں داخلہ کیلئے عالم پور میں 18 سال سے قیام کا سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا۔ ہائی کورٹ نے جھوٹے رہائشی سرٹیفکیٹ پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے عالم پور ایم آر او کو ہدایت دی ہے کہ وہ آئندہ دو ہفتے میںاس سلسلہ میں وضاحت کریں۔ مقدمہ کی آئندہ سماعت 31 اکٹوبر مقرر کی گئی ہے۔ میڈیسن میں داخلہ کیلئے عالم پورضلع گدوال میں قیام کا دعویٰ کرتے ہوئے طالب علم نے تحصیلدار کی جانب سے جاری کردہ سرٹیفکیٹ قبول نہ کرنے کی ہائی کورٹ سے شکایت کی۔ درخواست گذار کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ جسٹس الوک ارادھے اور جسٹس این وی شراون کمار پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے سماعت کی درخواست گذار کے وکیل نے کہا کہ ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق میڈیکل کورسیس میں داخلہ کیلئے رہائشی سرٹیفکیٹ کا لزوم عائد کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی کے احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے میڈیسن میں داخلہ کی درخواست کی گئی۔ دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد ہائی کورٹ نے آندھرا پردیش میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم کو رہائشی سرٹیفکیٹ کی اجرائی پر وضاحت طلب کی ہے۔