آندھرا پردیش میں تمام طبقات کو آبادی کے اعتبار سے مراعات کا وعدہ

   

تلگودیشم کے مہا ناڈو سے چندرا بابو نائیڈو کا خطاب ۔ جگن موہن ریڈی حکومت پر سخت تنقید

حیدرآباد۔27۔مئی ۔ (سیاست نیوز) آندھراپردیش میں اقتدار ملنے پر تلگودیشم تمام طبقات کے ساتھ سماجی انصاف کو یقینی بنانے کے ساتھ انہیں ترقی میں آبادی کے تناسب سے حصہ فراہم کریگی۔صدر تلگو دیشم چندرا بابونائیڈونے پارٹی کے یوم تاسیس پر ’مہاناڈو‘ سے خطاب کے دوران کہا کہ آندھراپردیش کو جگن موہن ریڈی نے اپنے اقتدار میں ہر اعتبار سے تباہ کردیا‘ ریاست معاشی ابتری کا شکار ہے اور ترقی مکمل ٹھپ ہوگئی ہے۔ نائیڈو نے بتایا کہ بدعنوان حکمرانوں کے ذریعہ ریاست کی ترقی کو ممکن نہیں بنایا جاسکتا ۔ انہوں نے ریاست کی آمدنی کا تلنگانہ سے تقابل کیا اور کہا کہ آندھراپردیش کی آمدنی 40 فیصد گھٹ چکی ہے جبکہ 2019 میں آندھراپردیش کی آمدنی 66 ہزار786 کروڑ روپئے تھی جبکہ تلنگانہ کی آمدنی 69 ہزار 620 کروڑ روپئے ریکارڈ کی گئی تھی اور آج تلنگانہ کی آمدنی 1 لاکھ 32 ہزار کروڑ ہے جبکہ آندھراپردیش کی آمدنی 94 ہزار 916کروڑ تک محدود ہے۔ نائیڈو نے ریاست کے صدر مقام کی ترقی ‘ پولا ورم معاملہ میں حکومت کے موقف ‘ وشاکھا اسٹیل پر حکومت کی خاموشی ‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست گذشتہ 5برسوں میں تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر جگن موہن ریڈی کو ناتجربہ کار قرارد یتے ہوئے کہا کہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد حکومت نے اپنے تجربات کیلئے ریاست کی معیشت کو تباہ کیا ہے ۔ حکومت جی ایس ٹی اور دیگر ذرائع آمدنی میں اپنا حصہ حاصل کرنے میں ناکام ہے اور آندھراپردیش کی ترقی میں رکاوٹ کا سبب بن رہی ہے۔ چندرابابو نائیڈو نے بتایا کہ تلگو دیشم کا قیام تلگو وقار اور عوام کی ترقی ‘ فلاح و بہبود کے علاوہ دیانتدارانہ حکمرانی کیلئے عمل میں آیا تھا اور پارٹی آج بھی اپنے مشن پر ہے۔ انہو ںنے آندھراپردیش کے عوام سے اپیل کی کہ وہ تقسیم ریاست کے بعد کے 5برسوں اور موجودہ حکومت کے 5 برسوں کا جائزہ لیں تاکہ انہیں کا اندازہ ہوسکے کہ تلگو عوام کو کون بہتر حکمرانی فراہم کرسکتا ہے۔ انہو ںتلگو دیشم حکومت میں حیدرآباد کی ترقی اور تقسیم ریاست کے بعد امراوتی کی ترقی کے منصوبہ اور ان پر عمل کا تذکرہ کیا اور کہا کہ تلگودیشم نے شہروں کو آباد کیا جبکہ وائی ایس آر سی پی ریاست کو برباد کر رہی ہے۔م