آندھرا یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایرانی خواتین کو مالی مشکلات کا سامنا

   

جنگ کے دوران افراد خاندان سے رابطہ منقطع ، کلکٹر سے مدد کرنے کی درخواست
حیدرآباد ۔ 9 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : ریاست آندھرا پردیش کے وشاکھا پٹنم میں واقع آندھرا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والی دو ایرانی خواتین فارما میں ڈپلوما میں تعلیم حاصل کررہی ہیں ۔ ایران میں جنگ کے حالات اور تنازعات کو دیکھتے ہوئے دونوں خواتین سولماز محمدی اور زینب محمدی نے ضلع کلکٹر آفس میں ڈی آر او ویشویشور نائیڈو سے ملاقات کرتے ہوئے اپنی مشکلات کو ظاہر کرتے ہوئے ایک درخواست پیش کی جس میں ایران میں جاری تنازعات کی وجہ سے مالی امداد منقطع ہونے کے بعد انہیں بنیادی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کافی جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے ۔ دونوں خواتین نے بتایا کہ وہ اپنے اہل خانہ سے فون یا پیغامات کے ذریعے بات نہیں کر پارہے ہیں ۔ یہ دونوں بہنیں تعلیم کے لیے مئی 2025 میں ہندوستان آئیں تھیں ۔ دونوں کی تعلیم جون کے اوائل میں مکمل ہوجائے گی ۔ تب تک وہ یہیں رہ کر تعلیم کو جاری رکھتے ہوئے رہنا چاہتی ہیں ۔ دونوں بہنیں اپنے تینوں بچوں کے ساتھ کرائے کے مکان میں مقیم ہیں اور ان کے بچے ایک خانگی اسکول میں زیر تعلیم ہیں ۔ اپنی درخواست میں انہوں نے بتایا کہ دو ماہ کا کرایہ 14600 روپئے اور بچوں کی اسکول فیس 29700 روپئے اور روزمرہ کے اخراجات کے لیے ان کے پاس رقم نہیں ہیں اور وطن واپس جانے کے لیے بھی ان کے پاس کوئی روپئے نہیں ہیں ۔ انہوں نے اپیل کی کہ وہ اس سلسلہ میں ان کی مدد کریں ۔ حکام نے مبینہ طور پر ان کی درخواست کو کلکٹر اور حکومت کو روانہ کردیا ہے اور تیقن دیا کہ وہ اس سلسلہ میں ضروری اقدامات کریں گے ۔ ایران میں تنازعات کی وجہ سے انہیں ایران سے رقم حاصل نہیں ہورہی ہے جس کی وجہ سے وہ شدید مشکلات کا سامنا کررہی ہیں ۔۔ ش m/b