ڈیجیٹل طرز تعلیم سے بھر پور استفادہ ، مختلف کمپنیوں اور اداروں کے سروے میں انکشاف
حیدرآباد۔ ریاست تلنگانہ میں تعلیمی سال آن لائن چلائے جانے کے باوجود 44فیصد طلبہ نے اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو ترک نہیں کیا بلکہ وہ مسلسل بہتر اور اعلیٰ معیاری تعلیم کے حصول کے سلسلہ میں سنجیدہ کوششوں میں مصروف رہے۔ حکومت کی جانب سے یکم فروری سے نویں اوردسویں جماعت کے طلبہ کے لئے باضابطہ کلاسس کے آغاز کے فیصلہ کے بعد آن لائن تعلیم کے سلسلہ میں خدمات انجام دینے والی کمپنیوں اور اداروں کی جانب سے کروائے گئے ایک سروے میں کہا گیا ہے کہ سال 2020-21 کے دوران باضابطہ تعلیم نہ ہونے کے باوجود 44 فیصد طلبہ بہتر تعلیم کے حصول میں کامیاب ہیں اور ان کی رائے میں آن لائن سلسلۂ تعلیم کو جاری رکھنے کے علاوہ ڈیجیٹل طرز تعلیم کو فروغ دینا چاہئے کیونکہ ڈیجیٹل طرز تعلیم اختیار کرنے والے طلبہ نہ صرف اپنی کلاس بلکہ کلاس میں پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات انٹرنیٹ اور دیگر تعلیمی ویب سائٹس سے بھی حاصل کر رہے ہیں اور وہ اپنے مقصد کے حصول کے ساتھ ساتھ اپنی صلاحیتوں میں بہتری پیدا کر رہے ہیں۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے یکم فروری سے اسکولوں کی کشادگی کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے پیش نظر کئی گوشوں سے سروے کا سلسلہ جاری ہے اور ان سروے کے ذریعہ اس بات سے آگہی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ریاست میں اولیائے طلبہ اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے حق میں ہیں یا نہیں! اس کے علاوہ ڈیجیٹل تعلیم کے اثرات ‘ آن لائن تعلیم کے فوائد‘ تعلیمی سال کے دوران طلبہ کی سرگرمیو ںکے علاوہ صورتحال کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے اور یہ سروے مختلف اداروں ‘ طلبہ کی تنظیموں ‘ اولیائے طلبہ کی تنظیموں کے علاوہ خود اسکول انتظامیہ کی جانب سے کروائے جا رہے ہیں تاکہ تعلیمی سال کے دوران باضابطہ تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز کے سلسلہ میں عوامی رائے حاصل کی جاسکے۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے سلسلہ میں اولیائے طلبہ کی جانب سے عدم اطمینان کے اظہار کے بعد آن لائن اور ڈیجیٹل طرز تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے والے اداروں کی جانب سے سروے کا عمل شروع کیا گیا ہے اور کہا جارہا ہے کہ ان ادارو ںکی جانب سے آن لائن اور ڈیجیٹل طرز تعلیم کے فروغ کے سلسلہ میں اقدامات کئے جانے لگے ہیں اور اس سلسلہ میں وہ اپنے عصری طریقو ںکو درست ثابت کرنے کیلئے کئی طرح کے سروے کروانے لگے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے باضابطہ کلاسس کے ساتھ آن لائن اور ڈیجیٹل کلاسس کو بھی جاری رکھنے کے احکام کے سبب یہ کہا جا رہاہے کہ نصف سے زیادہ طلبہ ڈیجیٹل تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں کیونکہ جاریہ تعلیمی سال کے دوران فون‘ لیاپ ٹاپ‘ کمپیوٹر اور ٹیاب کے ذریعہ تعلیم کے حصول کی جو عادت ہے وہ اس کو جاری رکھنے کے حق میں ہیں اور اگر اسکول میں تعلیم کا سلسلہ شروع کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں انہیں نوٹس تیار کرنے کے علاوہ دوبارہ کتابوں پر مشتمل بستوں کے ساتھ اسکول جانا پڑے گا اس کے علاوہ اولیائے طلبہ و سرپرستوں کی تنظیم کی جانب سے کئے گئے سروے میں اس بات کا انکشاف بھی ہوا ہے کہ ان کی بڑی تعداد اسکولوں کو غیر محفوظ تصور کر رہی ہے۔