Wednesday , December 2 2020

آپ کانگریس سے پیسے لیجئے اور ووٹ مجھے دیں:اسدالدین اویسی

سنگاریڈی: مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے پیر کو لوگوں سے کہا کہ وہ کانگریس قائدین سے پیسہ لیں اور ریاست میں آئندہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ان کی پارٹی کو ووٹ دیں۔

سنگاریڈی ضلع میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اے آئی ایم آئی ایم رہنما نے کانگریس پر ایک لطیفہ بھی کہا اور کہا کہ وہ سیکولر ازم کی بات کرتے ہیں لیکن بی جے پی اور کانگریس ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

اویسی نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی میں کوئی فرق نہیں ہے ،کانگریس پارٹی اور بی جے پیکے دل میں آر ایس ایس ہے۔ وہ سیکولرازم کی بات کرتے ہیں۔ دماغ ،دل اور زبان یہ تینوں چیزیں ایک مقام پر ہونی چاہیے۔ جب دل بولتا ہے تو دماغ اس کو مانتا ہے ۔

22 جنوری کو اویسی نے کہا براہ کرم اپنے ووٹ کو سمجھداری سے استعمال کریں۔ کانگریس والوں کے پاس بہت پیسہ ہے ، ان سے لے لو آپ کو میری وجہ سے مل جائے گا۔ بس مجھے ووٹ دو،اگر وہ آپ کو (رقم) دے رہے ہیں تو لے لو۔ جو کچھ بھی دیتے ہیں اسے لے لو اور لوٹ لو۔ میں کانگریس سے کہتا ہوں کہ قیمت بڑھاؤ ، میری قیمت صرف 2000 روپے نہیں ہے۔ میں اس سے زیادہ کاقابل ہوں۔

بلدیاتی انتخابات کے لئے پولنگ 22 جنوری کو ہوگی اور نتائج 25 جنوری کو اعلان کیے جائیں گے۔

حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے لوک سبھا ممبر نے بھی تلنگانہ کے نرمل ضلع کے بھینسہ قصبے میں ہونے والے تشدد کی مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ میں تلنگانہ کے وزیر اعلی کے سی آر سے اپیل کرتا ہوں کہ بھینسہ میں پیش آنے والا واقعہ قابل مذمت ہے۔ میں وزیراعلیٰ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ذمہ داران کے خلاف ضروری کارروائی کرے۔ میں کے سی آر سے یہ بھی درخواست کرتا ہوں کہ فرقہ وارانہ تشدد میں نقصان اٹھانے والے لوگوں کو معاوضہ دیا جائے۔ میں بھینسہ کے عوام سے بھی امن قائم رکھنے کی درخواست کرتا ہوں۔

بھینسہ میں فوجداری ضابطہ اخلاق کی دفعہ 144 کے تحت پولیس نے 15 جنوری تک ممنوعہ احکامات نافذ کردیئے ہیں ، جس علاقہ میں دو گروپوں کے مابین تصادم ہوا تھا۔

تلنگانہ پولیس کے مطابق 12 جنوری کے اواخر میں دو گروپوں کے مابین جھڑپیں ہوئی جنہوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کرنا شروع کیا ، جس کے نتیجے میں پرتشدد شکل اختیار ہوگئی جس کے نتیجے میں 13 مکانات اور 26 گاڑیوں کو نذر آتش کردیا گیا۔ تین پولیس اہلکار ، جن میں ڈسٹرکٹ ایس پی اور ڈی ایس پی شامل ہیں جو پولیس ٹیم کا حصہ تھے جو موقع پرہی پہنچ گئے اور تشدد میں زخمی ہوئے۔

 

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT