حصول تلنگانہ میں محبوب نگر کی عوام کا بہت بڑا حصہ ، کانگریس اور بی جے پی پر تنقید ، انتخابی جلسہ سے کے سی آر کا خطاب
محبوب نگر ۔22 نومبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) آپ کا مستقبل آپ کے ہاتھوں میں ہے اس کو محفوظ رکھئے جس کیلئے صحیح امیدوار کا انتخاب آپ کو کرنا ہوگا ۔ تاکہ عوامی فلاح و بہبود والی حکومت قائم رہ سکے ۔ ان خیالات کا اظہار ریاستی چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے آج شا م مستقر محبوب نگر کے گورنمنٹ جونیر کالج گراؤنڈ میں ’’پرجا آشیرواد سبھا‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انھوں نے فخریہ انداز میں کہا کہ وہ محبوب نگر کو کبھی نہیں بھلاسکتے ، یہ وہ مقام ہے جہاں سے آپ نے 2009 ء میں مجھے ایم پی منتخب کرکے پارلیمنٹ بھجوایا اور بحیثیت یہاں کے ایم پی کے میں نے تلنگانہ حاصل کیا۔ یہاں کے عوام کا حصول تلنگانہ میں بہت بڑا حصہ رہا ہے ۔ 14 سال طویل جدوجہد میں آپ نے بھرپور ساتھ دیا ۔ انھوں نے حلقہ اسمبلی محبوب نگر کے بی آر ایس امیدوار وی سرینواس گوڑ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ملازمت کو چھوڑکر تلنگانہ تحریک میں حصہ لیا۔ عوام کی خدمت کیلئے آگے آئے اور ضلع کی ترقی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ بائی پاس سڑکیں ، ٹینک بینڈ ، آئی ٹی ٹاور ، مایاپوری پارک نے محبوب نگر کے نقشے کو بدل دیا۔ انھیں عوام کی خدمت کا جنون ہے ۔ وہ واحد رکن اسمبلی ہیں جنھوں نے سی ایم ریلیف فنڈ سے 30 کروڑ روپئے منظور کروائے ۔ انھوں نے کہاکہ متحدہ ضلع میں ایک بھی میڈیکل کالج نہیں تھا لیکن آج 5 کالجس ہیں۔ عنقریب گورنمنٹ انجینئرنگ کالج بھی قائم کیا جائے گا ۔ 10 سالہ عرصہ میں غریب عوام کیلئے کئی ایک اسکیمات ہم نے شروع کیں۔ انھوں نے اُردو میں بھی مخاطب کیا اور اقلیتی بھائیوں سے بی آر ایس کو ووٹ دینے کی اپیل کی ۔ انھوں نے ماضی کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ 10 سال قبل جب تلنگانہ آندھرا میں شامل تھا جب 2000 کروڑ اقلیتی بجٹ تھا ہم نے 10 سال میں 12 ہزار کروڑ دیئے ۔ اقلیتی طلباء کی تعلیم کیلئے اقلیتی اقامتی اسکولس ، جونیر کالجس قائم کئے اب ڈگری کالجس بھی قائم کئے جارہے ہیں۔ انھوں نے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ تو پہلے سے علحدہ تھا لیکن ایک سازش کے تحت اس کو آندھرا میں شامل کیا گیا یہ کانگریس کا کام تھا ۔ 1969 ء کے تلنگانہ ایجی ٹیشن کے دوران 400 جہدکار فوت ہوگئے جبکہ 2014 ء کی جدوجہد میں 1200 افراد نے جان دی ۔ انھوں نے کہاکہ اگر ریاست کی مزید ترقی چاہتے ہیں تو بی آر ایس امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں ۔ انھوں نے سیاسی جماعتوں کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ ہماری 10 سالہ کارکردگی آپ کے سامنے واضح ہے ۔ کانگریس اور بی جے پی کی تاریخ سے تو آپ واقف ہیں۔ ہرگز اپوزیشن کے پروپگنڈہ میں نہ آئیں ورنہ پالمور رنگاریڈی جیسے بڑے پروجکٹ کی تکمیل صرف اور صرف بی آر ایس سے ہی ممکن ہے لہذا بی آر ایس کو اقتدار دیں۔ انھوں نے مقامی کانگریسی امیدوار پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ وہ 2012 ء میں بی جے پی کے تھے اب 2023 ء میں کانگریس کے امیدوار ہیں۔ انھوں نے بی جے پی امیدوار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ اس موقع پر کیشو راؤ ایم پی ، سابق ریاستی وزیر پی چندرشیکھر ، بی آر ایس قائد سید ابراہیم، انور پاشاہ و دیگر قائدین موجود تھے ۔