نئی دہلی، یکم مارچ (یو این آئی) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی خبروں کے بعد اتوار کے روز دہلی، لکھنؤ اور جموں کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ۔قومی دارالحکومت دہلی میں، جنوب مشرقی دہلی کے علاقے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر ایک بڑا ہجوم جمع ہوا۔ یہ اجتماع امریکی اور اسرائیلی حملے میں خامنہ ای کی مبینہ ہلاکت پر سوگ منانے اور ایک مسجد میں خصوصی دعائیہ تقریب کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔اس دوران طلبہ کے گروپس اور مقامی لیڈروں کو ایرانی رہنما کی حمایت میں احتجاج کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔اس سے قبل لکھنؤ اور جموں سے بھی احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔لکھنؤ میں شیعہ برادری کے ارکان ایران کے سپریم لیڈر کی مبینہ ہلاکت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ۔ مظاہرین نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور واقعے پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا۔ شہر کے حساس حصوں میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے کیونکہ مظاہرین اپنے غصے اور یکجہتی کے اظہار کے لیے بڑی تعداد میں جمع ہو رہے تھے ۔