اب مذاکرات کی میز بھی روس کے نشانہ پر

   

یوکرینی وزیر خارجہ آندری سبیگا نے امن کی کوششوں، سفارتکاری اور سہ فریقی ملاقاتوں کو بے حسی قرار دیا

کیف ۔ 24 جنوری (ایجنسیز) یوکرین نے روس کی جانب سے گزشتہ شب کیے جانے والے مہلک حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے جب روس، یوکرین اور امریکہ کے مذاکرات کار ابوظہبی میں جنگ بندی کے لیے دوسرے روز بھی ملاقات کرنے والے تھے۔ یوکرین نے روس کی جانب سے گزشتہ شب کیے جانے والے مہلک حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے جب روس، یوکرین اور امریکہ کے مذاکرات کار ابوظہبی میں جنگ بندی کے لیے دوسرے روز بھی ملاقات کرنے والے تھے۔ یوکرینی حکام کے مطابق جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب روسی حملوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور 18 زخمی ہوئے۔ یوکرینی وزیر خارجہ آندری سیبیگا نے کہا کہ امن کی کوششیں؟ متحدہ عرب امارات میں سہ فریقی ملاقات؟ سفارت کاری؟ یوکرینیوں کے لیے تو یہ روسی دہشت گردی کی ایک اور رات تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتہائی بے حسی سے، پوٹن نے یوکرین کے خلاف ایک وحشیانہ اور بڑے پیمانے پر میزائل حملے کا حکم اس وقت دیا جب وفود امریکی قیادت میں امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ابوظہبی میں ملاقات کر رہے ہیں۔ ان کے میزائلوں نے نہ صرف ہمارے لوگوں کو، بلکہ مذاکرات کی میز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے مطابق روس نے رات بھر میں ’’370 سے زائد ڈرونز اور مختلف اقسام کے 21 میزائل‘‘ داغے ہیں۔ امریکی حمایت یافتہ تجویز پر یوکرینی اور روسی حکام کے درمیان پہلا براہِ راست رابطہ جمعہ کو شروع ہوا تھا۔ دونوں فریقوں کا کہنا ہے کہ مشرقی ڈونباس خطہ کے علاقوں کا مستقبل ان اہم ترین حل طلب مسائل میں سے ایک ہے جو اس جنگ کے خاتمیکی راہ میں حائل ہیں۔ اس جنگ میں اب تک دسیوں ہزار لوگ ہلاک، لاکھوں بے گھر اور یوکرین کے کئی حصے تباہ ہو چکے ہیں۔