دہرادون16ستمبر (یو این آئی) اتراکھنڈ کے دہرادون ضلع میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران بادل پھٹنے اور بارش سے متعلقق واقعات کی وجہ سے مختلف مقامات پر 13 افراد کی موت اور تین دیگر زخمی ہو گئے ، جب کہ 16 لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔ ساتھ ہی سرکاری اور نجی املاک کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے ۔ دہرادون ضلع کے تمام ترقیاتی بلاکوں میں 13 پل، دو مکانات، 31 دیواریں، دو امرت سروور، 12 کھیت، 12 نہریں، 21 سڑکیں، پینے کے پانی کی سات اسکیمیں، آٹھ حوض، 24 پستہ وغیرہ کو بھاری نقصان پہنچا ہے ۔ ضلع مجسٹریٹ ساوین بنسل نے منگل کی شام کو بتایا کہ جیسے ہی پیر اور منگل کو بادل پھٹنے کی اطلاع ملی، راحت اور بچاؤ ٹیمیں جیسے ایس ڈی آر ایف، ڈی ڈی آر ایف، فائر بریگیڈ وغیرہ متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی خود مالدیوتا علاقہ پہنچے اور ضروری ہدایات دیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اور ایس ایس پی نے گراؤنڈ زیرو پر آفت زدہ علاقوں جیسے مالدیوتا، سہسرادھرا، گجراڈا، کارلیگڈ وغیرہ کا بھی دورہ کیا اور موجودہ صورتحال اور نقصان کا معائنہ کیا۔ بنسل نے بتایا کہ اس دوران انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور انہیں ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔ پی ڈبلیو ڈی اور پی ایم جی ایس وائی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کافی افرادی قوت اور مشینری کو تعینات کرکے مسدود سڑکوں اور مربوط راستوں کو جلد فعال بنائیں۔ ضلع مجسٹریٹ بنسل نے بتایا کہ مجیدہ میں تین افراد کے ملبے تلے دبے ہونے اور ایک شخص کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی ہے ۔ یہاں کچھ رہائشی عمارتیں، آنگن واڑی سنٹر، پنچایت بھون، کمیونٹی سنٹر، 13 دکانیں، آٹھ ہوٹل، تین ریستوران بشمول سہسرادھرا-کرلیگڈ موٹر روڈ کو نو سے زیادہ مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ متاثرہ افراد کو گورنمنٹ پری ایم اے وی میں قائم ریلیف کیمپ میں جگہ دی گئی ہے ۔انہوں نے کیمپ میں متاثرہ افراد سے ملاقات کی اور انہیں ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ اگر متاثرہ خاندان کرائے پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونا چاہتے ہیں تو انہیں تین ماہ کیلئے فی خاندان 4,000 کرایہ دیے جائیں گے ۔