اترپردیش سے بنگلہ دیشی اور غیرملکی باشندوں کو نکال باہر کرنے کی مہم

   

پولیس کو کارروائی کی ہدایت، مشتبہ افراد کے دستاویزات کی تنقیح کرنے کا حکم
لکھنؤ ۔ یکم ؍ اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش میں پولیس سے کہا گیا ہیکہ وہ بنگلہ دیش اور دیگر بیرونی باشندوں کی نشاندہی کریں تاکہ انہیں ملک سے نکال باہر کیا جاسکے۔ یوگی حکومت کے اس حکم یا ہدایت کو آسام میں کئے گئے این آر سی کی ہی ایک شکل قرار دیا جارہا ہے۔ اترپردیش کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس نے تمام ضلعی پولیس سربراہان کو اس ضمن میں ایک مکتوب لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ریاست کی داخلی سلامتی کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اپنی ہدایات میں اعلیٰ سرکاری عہدیدار کا کہنا ہیکہ ملک سے نکال باہر کرنے پروگرام کیلئے ایک وقت مقرر کیا جائے گا اور اس پروگرام کی سینئر پولیس عہدیدار نگرانی کریں گے۔ بہرحال پولیس کو یہ ہدایات ایسے وقت جاری کی گئی ہیں جبکہ بی جے پی زیراقتدار ریاست آسام میں نظرثانی شدہ این آر سی فہرست پر بھی تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اس فہرست میں زائد از 19 لاکھ لوگوں کے نام شامل نہیں کئے گئے ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنی شہریت ثابت نہیں کرپائیں گے تو انہیں ملک سے باہر نکال دیا جائے گا۔ یوپی پولیس سے یہ بھی کہا گیا ہیکہ وہ حمل و نقل کے مراکز اور گندہ بستیوں و مضافاتی علاقوں میں کسی بھی مشتبہ فرد کے پیش کردہ دستاویزات کی توثیق کرے۔ پولیس کو اس بات کی بھی ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ ان سرکاری ملازمین کا بھی پتہ چلائیں جنہوں نے بیرونی باشندوں کو جعلی دستاویزات تیار کرنے میں مدد کی ہو۔ بنگلہ دیشی اور بیرونی شہریوں کی حیثیت سے جن افراد کی شناخت کی جائے ان کی انگلیوں کے نشانات بھی حاصل کرلئے جائیں گے۔ پولیس نے تعمیراتی کمپنیوں سے کہا ہیکہ ان کے یہاں کام کرنے والے تمام مزدوروں کے شناختی کارڈس رکھنا ان کی اپنی ذمہ داری ہے۔ گذشتہ ماہ چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ نے آسام میں این آر سی کی ستائش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر اترپردیش میں بھی ایسی ہی کارروائی کریں گے۔