Sunday , February 23 2020

احتجاجیوں کا حوصلہ توڑنے کی کوشش، سی اے اے سے دستبرداری تک ایجی ٹیشن برقرار

بی جے پی دہلی اسمبلی الیکشن کے انتخابی جلسوں کا فائدہ اٹھانے میں مصروف، نت نئے اشتعال انگیز بیانات
سی اے اے ، این آر سی کے ذریعہ بی جے پی تقسیم ہند کی تکلیف تازہ کرنے کوشاں، کنہیا کمار کا خطاب
متنازعہ قوانین کے ذریعہ مرکز ملک کا مستقبل تباہ کردینے کے در پے، میدھا پاٹکر کا الزام

نئی دہلی ۔ 23 ۔ جنوری (سیاست ڈاٹ کام) متنازعہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) ، معلنہ این پی آر (نیشنل پاپولیشن رجسٹر ) اور مجوزہ این آر سی (نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس) کے خلاف ملک بھر میں جاری کامیاب ایجی ٹیشن کو مرکز میں برسراقتداربی جے پی مایوسی کا شکار ہوتی جارہی ہے ۔چنانچہ بی جے پی نے احتجاجیوں کا حوصلہ توڑنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ایک طرف اترپردیش میں بی جے پی کا اقتدار ہے جبکہ دہلی میں اسمبلی الیکشن کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ بی جے پی کیلئے یہی دو مقامات اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ اترپردیش میں اسی پارٹی کی حکمرانی ہے اور دہلی میں اسے انتخابی جلسوں کا زرین موقع حاصل ہورہا ہے ۔ چیف منسٹر آدتیہ ناتھ کی یو پی حکومت نے احتجاجیوں کے خلاف سخت رویہ اپنا رکھا ہے۔ احتجاجیوں کی ہمت کی بھی داد دینا پڑے گا کیونکہ اترپردیش کے متعدد شہروں بشمول ریاستی دارالحکومت لکھنو میں حکومت اور پولیس کے معاندانہ رویہ کے باوجود خواتین و دیگر مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ دہلی میں بی جے پی قائدین انتخابی جلسوں اور ریالیوں سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی مسائل کے بجائے سی اے اے جیسے قومی مسئلوں پر مسلمانوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ کئی قائدین اشتعال انگیز تقریریں کر رہے ہیں جیسے بی جے پی امیدوار کپل مشرا نے دعویٰ کیا کہ دہلی کے احتجاجی مقامات ’’منی پاکستان‘‘ ہیں۔ انہوں نے 8 فروری کے الیکشن کو ہندوستان اور پاکستان کا مقابلہ قرار دیا۔ اسی طرح کرناٹک ، کیرالا ، مدھیہ پردیش ، مہاراشٹرا ، اترکھنڈ ، ہریانہ ، بہار و دیگر ریاستوں میں بی جے پی عملاً احتجاجوں سے مایوس دکھائی دے رہی ہے لیکن وہ اس طرح کا انداز اختیار کر رہے ہیں کہ مخالف سی اے اے ، این پی آر ، این آر سی ایجی ٹیشن سے حکومت کو کچھ فرق پڑنے والا نہیں اور مرکز پیچھے ہٹنے والا نہیں۔ اس دوران کولکتہ ، ممبئی ، بنگلورو وغیرہ میں مختلف قائدین نے سی اے اے اور دیگر منصوبوں کے خلاف جاری احتجاج کی بھرپور تائید و حمایت کی۔ کولکتہ میں سی پی آئی لیڈر کنہیا کمار نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی نئے قانون شہریت ، این آر سی اور این پی آر کے ذریعہ ملک کی آبادی میں تقسیم ہند کی تکلیف کو تازہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور وہ مذہبی خطوط پر عوام کو منقسم کرنے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے گھر ہونا نہایت تکلیف دہ احساس ہے، چاہے 1947 ء کی تقسیم کے دوران ہوا ہے یا 1990 ء کے دہے میں کشمیری پنڈتوں کو وادی چھوڑ کر جانے کا معاملہ ہو۔ کنہیا نے کہا کہ آسام میں این آر سی کے عمل نے بی جے پی کو مشکل میں ڈال دیا کیونکہ اپنی شہریت ثابت کرنے میں ناکام رہنے والے جملہ 19 لاکھ لوگوں میں سے تقریباً 16 لاکھ غیر مسلم ہیں۔ اس موقع پر سیاسی پارٹیوں کا اتحاد نظر آیا اور کمیونسٹ لیڈر اندرجیت گپتا کی یاد میں منعقدہ سمینار سے کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی پردیپ بھٹاچاریہ ، سی پی آئی ایم پولیٹ بیورو ممبر محمد سلیم ، سی پی آئی ایم ایل لبریشن جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ نے بھی مخاطب کیا ۔ ممبئی میں پیپلز یونین فار سیول لبرٹیز کے زیر اہتمام باندرہ میں منعقدہ جلسہ عام سے ویٹرن سماجی جہد کار میدھا پاٹکر نے خطاب کیا۔ انہوں نے مرکز کو سی اے اے اور دیگر غیر ضروری منصوبوں کے ذریعہ ملک کے مستقبل کو برباد کرنے کی سازش رچانے کا مورد الزام ٹھہرایا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حکومت ان چیزوں کے ذریعہ کلیدی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے، جیسے بگڑتی معیشت ، بڑھتی بیروزگاری ، اونچی قیمتیں ، کالا دھن کی بدستور موجودگی ، کرپشن کی برقراری وغیرہ۔ بنگلورو میں سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا نے سیکولر علاقائی پارٹیوں اور کانگریس سے اپیل کی کہ مشترک اقل ترین پروگرام کے ساتھ سی اے اے جیسے فضول مرکزی منصوبوں اور انتشار پسند پالیسیوں کے خلاف ڈٹ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جن سنگھ اور ہندو مہاسبھا اپنے دیرینہ مخالف مسلم ایجنڈے کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے وہ ملک کو خطرہ کے دہانے پر پہنچا رہے ہیں۔ دریں اثناء دہلی میں سربراہ بھیم آرمی چندر شیکھر آزاد نے جاریہ ایجی ٹیشن کے مرکزی مقام شاہین باغ میں احتجاجی خواتین سے خطاب کیا اور کہا کہ اس تحریک اور انقلاب میں ہماری کامیابی ضرور ہوگی۔ انہوں نے شاہین باغ میں گزشتہ زائد از ایک ماہ سے احتجاج کرنے والوں کو ان کے حوصلے اور ان کی ہمت کے لئے مبارکباد دی ۔ بھیم آرمی کے سربراہ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر احتجاج کے مقام پر لوگوں سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کا احترام کرنے کیلئے ان سے کہا گیا ہے۔ یہ عدالت کے احکام ہیں لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ پی ایم اس کے مستحق ہیں۔ چندر شیکھر نے کہا کہ جمہوریت میں عوام سب سے اعلیٰ ہوتے ہیں اور عوام قانون شہریت 1955 ء میں ایسی کوئی ترمیم نہیں چاہتے جو سی اے اے کی شکل میں کی گئی ہے۔ شاہین باغ کی سڑکوں کی حالت اور ٹریفک جام ہونے سے متعلق دہلی پولیس کے بیان پر انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی سڑک دکھاؤ جہاں ٹریفک جام نہیں ہوتا ہے۔ مجھے شاہین باغ پہنچنے دیڑھ گھنٹہ لگا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT