ادھو ٹھاکرے ‘ساورکر اور بال ٹھاکرے کی توہین کرنے والوں کے ساتھ ہیں

,

   

ملک میں مذہب کی بنیاد پر تحفظات دینے کی کوئی گنجائش نہیں۔ مہاراشٹرا میں بی جے پی منشور کی اجرائی کے بعد امیت شاہ کا بیان

ممبئی: مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے آج کہا کہ شیو سینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے کانگریس کی حمایت کر رہے ہیں جس کے قائدین نے بالا صاحب ٹھاکرے اور ساورکر کی توہین کی ہے۔ امیت شاہ نے یہ بات 20 نومبر کو ہونے والے مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات کیلئے بی جے پی کا منشور جاری کرنے کے بعد کہی۔انہوں نے کہاکہ ادھو ٹھاکرے سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا وہ کانگریس لیڈر راہول گاندھی سے ویر ساورکر کیلئے دو اچھے الفاظ کہنے کی درخواست کر سکتے ہیں ۔ امیت شاہ نے کہاکیا کوئی کانگریس لیڈر بال ٹھاکرے کے اعزاز میں چند الفاظ کہہ سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ اچھا ہو گا اگر مہاراشٹرا کے لوگ ان کو جان لیں جنہوں نے اس طرح کے تضادات کے درمیان مخلوط حکومت بنانے کا خواب دیکھا ہے۔ امیت شاہ نے کہا کہ بی جے پی کا انتخابی منشور مہاراشٹرا کے عوام کی اسمبلی انتخابات کی خواہشات کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ علماء کی ایک تنظیم نے اقلیتوں کیلئے تحفظات کا مطالبہ کیا اور ریاستی کانگریس کے صدر نانا پٹول نے اس سے اتفاق کیا ہے۔امیت شاہ نے کہاکہ کیا مہاراشٹرا کے لوگ مسلمانوں کو درج فہرست ذاتوں، قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کے ریزرویشن کا حق دینے کے حق میں؟ ۔انہوں نے کہاکہ ہمارے آئین میں مذہب کی بنیاد پر تحفظات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پھر کانگریس نے اقتدار میں آنے سے پہلے تحفظات کا وعدہ کیا، عوام کو اس مسئلے کا ادراک کرنا چاہیے۔شاہ نے کہا کہ بی جے پی کا عزم پتھر میں ہے۔ انہوں نے کہاکہ چاہے مرکزی ہو یا ریاست، جب ہماری حکومت بنتی ہے، ہم اپنے وعدے پورے کرتے ہیں ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد مہا وکاس اگھاڑی کے انتخابی وعدے نظریہ کی توہین و خوشامد کو فروغ دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس زیر اقتدار ریاستوں میں قبل از انتخابات وعدوں سے مکر گئی ہے اور مہا وکاس اگھاری کی کوئی ساکھ نہیں ہے۔شاہ نے کہاکہ شرد پوار کو مہاراشٹرا کے عوام کو بتانا چاہیے کہ انہوں نے عوام کیلئے کیا کیا جب وہ یو پی اے حکومت میں وزیر رہے۔

لاڈلی بہن یوجنا اور وظیفہ پیرانہ سالی کی رقم میںاضافہ ‘ زرعی قرض معافی
پولیس فورس میں 25 ہزار خواتین کی بھرتی ۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے مہاراشٹرا کیلئے بی جے پی کا منشور جاری کیا

ممبئی : مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات کی مہم عروج پر پہونچ چکی ہے ، اور اس تناظر میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آج بی جے پی کے منشور کی اجرائی کی۔ اس منشور میں خواتین کو لاڈکی بہن یوجنا میں 1500 روپے کے بجائے 2100 روپے دینے کا وعدہ کیا گیا ہے ۔ کہا گیا کہ کسانوں کا قرض معاف کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ خواتین، طلباء، بزرگوں کو بھی روزگار، کاروبار سمیت مختلف امور پر توجہ دی گئی ہے ۔اس موقع پر ڈپٹی چیف منسٹر دیویندر فڑنویس، ایم پی پیوش گوئل، ونود تاوڑے ، ریاستی صدر چندر شیکھر باونکولے ، ممبئی صدر آشیش شیلارسمیت بی جے پی کے کئی لیڈر موجود تھے ۔بی جے پی کے منشور میں اہم اعلانات میں ، لاڈکی بہن یوجنا کے تحت خواتین کو 1500 سے 2100 روپے ، وژن مہاراشٹرا 2029، حکومت کے قیام کے بعد 100 دنوں کے اندر پیش کیا جائے گا، خواتین میں مالی خواندگی پیدا کرنے کی تربیت، خواتین کی حفاظت کیلئے پولیس فورس میں 25000 خواتین کی شمولیت، قرض معافی، کسانوں کو ‘شکتر سمان یوجنا’ رقم میں اضافہ، ہر غریب کو کھانا اور رہائش دی جائے گی۔ اس کے علاوہ وظیفہ پیرانہ سالی کو 1500 سے 2100 کیا جائیگا ۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہیں گی، ڈھائی لاکھ روزگار ہو گا۔ 10 لاکھ طلباء کیلئے تعلیمی وظیفہ ماہانہ ہوگا، ان اعلانات میں ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ اور انہیں ہر ماہ 15000 تنخواہ اور انشورنس کور دینا، بجلی کے بل میں 30 فیصد کمی اور شمسی توانائی اور قابل تجدید توانائی پر توجہ دینا شامل ہے ۔ دیویندر فڑنویس نے کہا کہ منشور کے ذریعے وزیر اعظم نریندر مودی کی اسکیمات کومہاراشٹرا میں نافذ کرنا ہے ۔ منشور میں بہت چیزیں ہیں جن پر ہم نے روشنی ڈالی ہے ۔ جن میں سے 10 نکات ہیں ۔ ہم نے مہایوتی کے 10 نکاتی پروگرام کا اعلان کیا۔ ہم پیاری بہنوں کو 1500 کی بجائے 2100 روپے دیں گے ۔ ہم کسانوں کے قرضے معاف کرنے والے ہیں۔ ہم ‘بھونتر یوجنا ‘ متعارف کرانے جا رہے ہیں۔ جہاں ضمانتی قیمت پر کوئی خریداری نہیں ہو رہی ہے وہاں پرائس ٹرانسفر سکیم کے ذریعے کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ فڑنویس نے کہا کہ یہ پچھلے سال کیا گیا تھا۔پریس کانفرنس میں امیت شاہ سے آئندہ انتخابات کیلئے مہایوتی سے چیف منسٹر امیدوار کے بارے میں پوچھا گیا۔ امیت شاہ نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ہم شرد پوار کو موقع نہیں دیں گے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ مہاراشٹرا کے موجودہ چیف منسٹر ایکناتھ شندے مہایوتی کی قیادت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تینوں جماعتیں انتخابات کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرینگی ۔