شنڈے گروپ کے چیف وہپ کو شیوسینا پارٹی کا وہپ مقرر کرنے کی منظوری دینے پر اعتراض
ممبئی : مہاراشٹرا اسمبلی میں ایکناتھ شنڈے۔ بی جے پی سرکار نے فلور ٹسٹ میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ ادھر ریاست کے سابق وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ ادھو گروپ کی طرف سے نئے اسمبلی اسپیکر راہول نارویکر کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے، جس میں انہوں نے شنڈے گروپ کے چیف وہپ کو شیوسینا پارٹی کا وہپ مقرر کرنے کی منظوری دی ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے فورا سماعت نہ کرکے معاملہ کی سماعت کیلئے 11 جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے۔ ادھر شندے سرکار نے اسمبلی اکثریت ثابت کردی ہے۔ ان کی سرکار کے حق میں 164 ووٹ پڑے۔بی جے پی کے رکن اسمبلی راہل نارویکر کو شندے گروپ کی طرف سے اسمبلی اسپیکر کے الیکشن میں اتارا گیا تھا، جنہوں نے 164 ووٹوں کے ساتھ اتوار کو جیت حاصل کرلی۔ اس کے کچھ ہی گھنٹے بعد انہوں نے ادھو گروپ کی طرف سے شیوسینا کے چیف وہپ سنیل پربھو کو ہٹا دیا اور شندے خیمے کی طرف سے لائے گئے بھرت گوگاولے کو شیوسینا کا چیف وہپ مقرر کردیا۔ انہوں نے ادھو گروپ کی طرف سے لیجسلیچر پارٹی کا لیڈر بنائے گئے اجے چودھری کی تقرری کو بھی خارج کردیا اور ایکناتھ شندے کو شیوسینا لیڈر عہدہ پر بحال کردیا تھا۔چیف وہپ کی تقرری پر اسپیکر راہول نارویکر کے فیصلے کے خلاف ادھو ٹھاکرے گروپ نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ میڈیا کے مطابق سینئر ایڈووکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی نے جسٹس اندرا بنرجی اور جے کے ماہیشوری کی تعطیلاتی بینچ کے سامنے پیر کو یہ معاملہ اٹھایا۔سنگھوی نے کہا کہ شندے گروپ کی طرف سے مقرر کئے گئے وہپ کو منظوری دینے کا اسپیکر کو کوئی حق نہیں ہے، کیونکہ ادھو ٹھاکرے اب بھی شیوسینا کی آفیشیل پارٹی کے صدر ہیں۔ سنگھوی نے یہ بھی کہا کہ پچھلے ہفتے شندے گروپ نے سنیل پربھو کو شیوسینا کا آفیشیل چیف وہپ بنائے جانے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا، لیکن سپریم کورٹ نے کوئی عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اب اسپیکر نے نئے وہپ کو منظوری دیدی ہے، جو کورٹ کے ذریعہ قائم کی گئی جوں کی توں صورتحال کی خلاف ورزی ہے۔