اراضیات ، مکانات اور اپارٹمنٹس کی نشاندہی کا آغاز

   

آئندہ ماہ جائیداد قیمتوں میں اضافہ متوقع، محکمہ مال حکومت تلنگانہ کا اقدام

حیدرآباد۔22ڈسمبر(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کے مطابق محکمہ مال کے عہدیداروں نے ریاست میں اراضیات اور مکانات کے علاوہ اپارٹمنٹس کی تفصیلات جمع کرنی شروع کردی ہیں اور کہا جار ہاہے کہ آئندہ ماہ کے اوائل میں ہی حکومت کی جانب سے جائیدادوں کی قیمتوں میں تبدیلی اور اضافہ کے سلسلہ میں اعلامیہ کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی اور اس اعلامیہ کی اجرائی کے بعد اعتراضات اور ادعاجات کے ادخال کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ حکومت آندھرا پردیش کی جانب سے غیر منقسم ریاست میں سال 2013 کے دوران اراضیات کی قیمتوں میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا تھا اوراب تلنگانہ میں پہلی مرتبہ حکومت نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ ریاست کے تمام اضلاع اور شہروں میں جائیدادوں کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے اور اس سلسلہ میں تمام منڈلوں میں عہدیداروں کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں ۔ محکمہ مال کے شعبہ رجسٹریشن اور اسٹامپس کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے سلسلہ میں کہا جا رہا ہے کہ عہدیداروں نے اب اراضیات کا سروے کرنا شروع کردیا ہے اور اندرون ایک ہفتہ تمام سروے مکمل کرتے ہوئے علاقہ میں موجود سہولتوں کے علاوہ ترقیاتی کاموں کو نظر میں رکھتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ کا فیصلہ کیا جائے گا۔ محکمہ اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن کی جانب سے کئے جانے والے انکشاف کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ریاست کے تمام شہری اور دیہی علاقوں کے علاوہ زرعی اراضیات کی قیمتو ںمیں بھی اضافہ کیا جائے گا اور یہ اضافہ 10 فیصد سے 100 فیصد تک کیا جاسکتا ہے۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق جن اضلاع میں ریاستی حکومت کے قبضہ میں موجود اراضیات زیادہ ہوں گی ان علاقوں کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا اور اس کے علاوہ کھلی اراضیات کا ریکارڈ دیکھتے ہوئے جائیدادوں کی قیمتوں میں اضافہ کے سلسلہ میں اقدامات کئے جائیں گے۔ شہر حیدرآباد کے نواحی علاقوں میں کئے جانے والے سروے کے مطابق شہر حیدرآباد کے اطراف کے علاقوں کی جائیدادوں کی قیمت میں بھی زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جاسکتا ہے کیونکہ شہر کے اطراف بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے علاوہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سبب ترقیاتی کاموں میں تیزی ریکارڈ کی جا رہی ہے ۔ عہدیدارو ںنے بتایا کہ سروے کے دوران عہدیداروں کو اس بات کی بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ موجود ہ بازار کی قیمت اور سرکاری قیمت میں پائے جانے والے فرق کا بھی جائزہ لیں تاکہ نئی قیمت کے تعین میں دشواری نہ ہو اور علاقہ کی مالیت کے اعتبار سے قیمت کے تعین کو ممکن بنایا جاسکے۔