تفصیلات کو عام کرنے کے منصوبے سے عوام میں تشویش ۔ آن لائین ڈاٹا کے سائبر مجرمین کی جانب سے بیجا استعمال کے اندیشے
حیدرآباد۔حکومت کی جانب سے غیر زرعی اراضیات کے سلسلہ میں کئے جانے والے سروے کے دوران طلب کی جانے والی تفصیلات کو منظر عام پر لائے جانے کے منصوبہ سے عوام کی تشویش میں اضافہ ہونے لگا ہے اور کہا جار ہا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے بالخصوص شہر حیدرآباد میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے ذریعہ غیر زرعی اراضیات کے سروے کے دوران جائیداد کی تفصیلات کے ساتھ گھر میں رہنے والے افراد کی وہ تفصیلات طلب کی جارہی ہیں جو کہ مخفی رکھی جانا لازمی ہے او ر قانونی اعتبار سے بھی حکومت کو اس بات کا استحقاق حاصل نہیں ہے۔ حکومت کی جانب سے دھرانی ویب سائٹ کیلئے حاصل کی جانے والی تفصیلات میں جائیداد کی تفصیلات کے حصول میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن جائیداد میں رہنے والوں کی تفصیلات اور ان کے آدھار کارڈ ‘ بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات کے علاوہ دیگر شناختی کارڈس کی تفصیلات طلب کی جا رہی ہیں جو کہ مناسب نہیں ہے اور یہ کہا جا رہاہے کہ دھرانی ویب سائٹ پر جائیدادوں کی مکمل تفصیلات کو اپ ڈیٹ کرنے کیلئے اقدامات کے تحت کے تمام تفصیلات ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی جائیں گی تاکہ ان پر اعتراضات اورادعاجات طلب کئے جاسکیں۔ حکومت کی جانب سے طلب کی جانے والی تفصیلات کو ویب سائٹ پر عوام کے مشاہدہ کیلئے رکھے جانے کی صورت میں سائبر کرائم میں اضافہ کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے کیونکہ عام طور پر بینک کی جانب سے بھی یہ تمام تفصیلات حاصل نہیں کی جاتیں اور بینک کی جانب سے اپنے گاہکوں کو متنبہ کیا جاتا رہتا ہے کہ وہ کسی بھی گوشہ سے اس طرح کی تفصیلات طلب کئے جانے پر کوئی تفصیلات روانہ نہ کریں کیونکہ تاریخ پیدائش ‘
آدھار کارڈ اور بعض دیگر تفصیلات کا غلط استعمال ممکن ہے۔سائبر کرائم کے مجرمین جو دوسرے ممالک میں بیٹھ کر معاشی جرائم انجام دیا کرتے ہیں وہ شہریوں کی خفیہ معلومات کو حاصل کرتے ہوئے انہیں نشانہ بناتے ہیں اور حکومت اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے باضابطہ یہ کہا جا رہاہے کہ ان کی یہ معلومات اعتراضات اور ادعاجات کیلئے ویب سائٹ پر پیش کی جائیں گی اس دوران اگر کوئی سائبر کرائم کا مجرم ان تمام تفصیلات تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائدہوگی یہ کوئی نہیں کہہ رہا ہے بلکہ یہ کہاجا رہا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اس فیصلہ کے تحت تمام شہریوں کو اپنی جائیدادوں کی مکمل تفصیلات کی فراہمی کے اقدامات کو یقینی بنانا لازمی ہے۔ نہ صرف شہر حیدرآباد بلکہ ریاست کے دیگر اضلاع میں بھی یہ تفصیلات طلب کی جانے لگی ہیں جس کے سبب شہریو ںمیں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔