عمان : اردن کی مسلح افواج کی جنرل کمان کے ایک باخبر فوجی ذریعہ نے بتایا کہ ’منگل کی رات ایران کی جانب سے اسرائیل پر سیکڑوں میزائل داغے جانے کے بعد اردن کی فضائی حدود کو ایئر ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا۔اس سے قبل اردن کے سول ایوی ایشن ریگولیٹری کمیشن ( سی اے آر سی) نے خطے کی حالیہ صورتحال کے پیش نظر فضائی حدود کو تمام ایئرٹریفک کیلیے ’عارضی طور‘ پر بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔خبر رساں ادارے پیٹرا کے مطابق اردن کی آرمڈ فورسز کی جنرل کمانڈ کا کہنا ہے’ ملک کی سلامتی اور استحکام کو لاحق کسی بھی خطرے سے نمٹنے کیلیے تمام یونٹس اور فارمیشنز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے‘۔’جنرل کمانڈ علاقائی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ملک کی سکیورٹی کیلئے سرحدوں پر فرنٹ لائن یونٹس کی مدد کیلیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گئے ہیں‘۔ذرائع کا مزید کہنا ہے’ آرمڈ فورسز کے تمام یونٹس اور فارمشنز ہمیشہ آپریشنل، تربیتی اور لاجسٹک تیاریوں کی اعلی سطح پر ہوتے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے‘۔علاوہ ازیں اردن کی وزارت داخلہ نے بیان میں کہا’ البلقا، الزرقا، مادبا اور الکرک کے علاقوں میں میزائل کے ٹکڑے گرنے سے دو افرد معمولی زخمی ہوئے ہیں‘۔