اردواخبارات اور تحریک آزادی میں اردو زبان کے کردار کی منفرد اہمیت

   

ایکسچینج فار میڈیا سے اردو صحافیوں کو ایوارڈس، انوراگ بترا و دیگرکا خطاب

حیدرآباد۔2۔اکٹوبر۔(سیاست نیوز) قومی سطح پر اردو صحافت کے 200 سالہ جشن کی مناسبت سے ایکسچینج فار میڈیا نامی ادارہ نے پہلی مرتبہ ملک بھر کے 40 منتخبہ اردو صحافیوں کو ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا تھا جس میں روزنامہ سیاست کے اسٹاف رپورٹر محمد مبشرالدین خرم کا بھی انتخاب عمل میں آیا ۔ دہلی میں انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں گذشتہ دنوں منعقدہ ایوارڈ تقریب جس میں سابق چیف الیکشن کمشنر جناب ایس وائی قریشی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور مسٹر انوراگ بترا چیف ایکزیکیٹیو آفیسر ایکسچینج فار میڈیا نے اس تقریب کی صدارت کی ۔ اس ایوارڈ تقریب میں جناب خالد رضا خان‘ جناب خورشید ربانی ‘ جناب رہیل امین‘ محترمہ رخشندہ جلیل ‘ ڈاکٹر عقیل احمد کے علاوہ اردو ادب سے تعلق رکھنے والی کئی اہم شخصیات موجود تھیں۔ مسٹر انوراگ بترا نے اس تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ ہندستان میں اردو اخبارات اور تحریک آزادی میں اردو زبان کے کردار کی اپنی منفرد اہمیت رہی ہے اور اس زبان کو مذہب سے جوڑتے ہوئے اسے نقصان پہنچایا جا رہاہے۔انہوں نے بتایا کہ اردو زبان دل کی زبان ہے اور اس زبان کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ انوراگ بترا نے کہا کہ ان کے والدین اردو زبان کے استعمال اور اس کو لکھا اور پڑھا کرتے تھے اسی لئے اردو زبان کو ئی غیر زبان نہیں بلکہ خالص ہندستانی زبان ہے۔ جناب ایس وائی قریشی سابق چیف الیکشن کمشنر نے اس تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ اردو زبان کبھی کسی مذہب کی زبان نہیں رہی لیکن آج کے ماحول میں اردو کو مسلمانوں کی زبان کے طور پر پیش کیا جانے لگا ہے جبکہ اگر اردو صحافت کی تاریخ کا مشاہدہ کیا جائے تو اردو صحافت کو غیر مسلموں کی طویل مدت تک سرپرستی رہی اور کئی اخبارات غیر مسلم مدیران کی نگرانی میں کامیابی کے ساتھ چلائے جاتے رہے ہیں۔ انہو ںنے ایوارڈ حاصل کرنے والے تمام صحافیوں کو مبارکباد پیش کی ۔ جناب محمد مبشرالدین خرم کے علاوہ شہر حیدرآباد سے اردو یوٹیوب چیانل کے زمرہ میں بی بی این کے صحافی جناب خلیل فرہاد ‘ نیوز 18 سے جناب مرزا غنی بیگ ‘ جناب مہتاب عالم(دہلی) ‘ عابد حسین (کشمیر ) اور دیگر شامل ہیں۔