اردو اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات عمل میں لانے پر زور

   

رکن قانون ساز کونسل جناب عامر علی خاں کی صدر نشین کونسل سیکھندر ریڈی سے نمائندگی
حیدرآباد۔18۔ڈسمبر(سیاست نیوز) اردو اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں کے معاملہ میں جناب عامر علی خان رکن قانون ساز کونسل نے آج تلنگانہ قانون ساز کونسل میں مسئلہ اٹھاتے ہوئے اس سلسلہ میں ایک یادداشت (پیٹیشن) صدرنشین تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر جی سکھیندر ریڈی کے توسط سے حکومت کو روانہ کرتے ہوئے بتایا کہ 2012 میں ڈی ایس سی امتحانات منعقد کئے گئے تھے اور 2017میں بھی ڈی ایس سی امتحانات منعقد کئے گئے تھے اور ماضی قریب میں 2024 میں ایک اور ڈی ایس سی امتحان منعقد کیاگیا ہے اور اس کے باوجود اردو اساتذہ کی 1183جائیدادیں مخلوعہ تھیں جن میں 469 جائیدادوں پر تقررات عمل میں لائے جاچکے ہیں جبکہ 714 جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ جناب عامر علی خان نے ان جائیدادوں پر تقرر ات نہ کئے جانے کے معاملہ میں ایوان میں صدرنشین کو پیش کی گئی یادداشت میں کہا کہ 663 جائیدادیں محفوظ زمرہ میں شامل ہیں ان جائیدادوں کو غیر محفوظ زمرہ میں لاتے ہوئے ان پر تقررات کے اقدامات کی خواہش کی ۔ انہو ںنے تحریری یادداشت کی صدرنشین کو حوالگی کے ساتھ کہا کہ تلنگانہ کے مختلف اضلاع سے انہیں اس سلسلہ میں مسلسل یادداشتیں موصول ہورہی ہیں ان یادداشتوں پر مؤثر کاروائی کے لئے وہ صدرنشین قانون ساز کونسل کے توسط سے حکومت کو روانہ کررہے ہیں۔انہو ںنے ایوان میں پیش کی گئی یادداشت کے سلسلہ میں بتایا کہ جملہ 1179 جائیدادوں میں محض 516 جائیدادیں مسلمانوں کے لئے دستیاب ہیں جبکہ مابقی 663 جائیدادیں ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی اے‘ بی سی بی ‘ بی سی سی ‘ اور بی سی ڈی کے لئے محفوظ ہیں اور ان طبقات میں اردو سے واقف نوجوان نہ ہونے کے نتیجہ میں یہ جائیدادیں طویل مدت سے مخلوعہ ہیں ان جائیدادوں پر تقررات کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے متحدہ آندھراپردیش میں ملازمتوں کی فراہمی کے قوانین کا جائزہ لینے کے بعد اقدامات کئے گئے تھے اگر اسی طرح سے دوبارہ اقدامات کرتے ہوئے ریاستی حکومت کاروائی کرتی ہے تو ان جائیدادوں پر تقررات ممکن ہوپائیں گے اور اس کا راست فائدہ اردو داں طبقہ کو حاصل ہوگا اور اردو زبان کی ترقی و ترویج میں اہم پیشرفت کے علاوہ اقلیتی طبقہ کے نوجوانوں کو روزگار حاصل ہوسکتا ہے۔3