اردو میڈیم سے ناانصافی ، لاپرواہی یا تعصب ؟

   

جگتیال میں طلبہ کو نصابی کتب کی عدم فراہمی کے خلاف کلکٹر اور ڈی ای او کو یادداشت

جگتیال : ریاستی حکومت اردو دوستی اور زبانی ہمدردی کے بجایے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اردو میڈیم سرکاری مدارس کے نصابی کتب کی ابھی تک عدم اشاعت اور عدم سربراہی سیطلباکی تعلیم متاثر ہو رہی ہے ۔اردو میڈیم کے ساتھ انصاف اور فوری کتب کی فراہمی کا مطالبہ جگتیال صدر ملت مرکزی کمیٹی امارات ملت اسلامیہ محمد عبدالباری کی قیادت میں ایک وفد جس میں نائب صدر محمد غیاث الدین محمد ساجد محمد منعیم الدین مجاہد پٹواری مسیح لدین افسر محمد فہیم کے علاوہ دیگر ن کرتے ضلع کلکٹر اور ضلعی مہتمم تعلیمات کو تحریری یاداشت حوالے کیا ۔ اس موقع پر انہوںنے کہا کہ اردو کے ساتھ ہمیشہ سوتیلا سلوک کرنے کا الزام لگایا دو سال کورونا وبا سے طلبا کی تعلیم متاثر ہوئی طویل عرصہ بعد اکیڈیمک سال سے ہی اسکول کے دروازے کھل گئے اور طلبہ وطالبات میں مسرت کی لہر دوڑ گئی لیکن یہ مسرت اس وقت پھیکی پڑگئی جب 45 دن گذر نے کے باوجود تعلیمی مواد ہمیشہ کی طرح آج تک نہیں پہونچااولیا طلبا اور برسر اقتدار پارٹی اقلیتی قایدین میں بھی کتابوں کی عدم فراہمی سے تشویش پائی جاتی۔ ہے۔ جبکہ اردو سے ہٹ کر انگلش اور تلگو میڈیم ا سکولوں کو حکومت کی جانب سے کتب بھی فراہم کیے اور زور شور سے قریب ہونے والے امتحان کی تیاری بھی کروارہے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کے اردو میڈیم طلبا نصابی کتب کے منتظر ہیں آخر کیوں ؟اقلیتی بہبود اردو ، اردو سکولس کو لیکر ہمیشہ پیچھے کیوں رہتاہے۔حکومت کی لاپرواہی یا نظر اندازکرنا یا محکمہ میں موجود ہمارے ہی بڑے بڑے اعلی عہددار جو موٹی موٹی تنخواہ لیکر بھی بے فکر ہوجاتے ہیں اور خواب غفلت کی نیند میں ہیں اور حکومت سمجھتی ہے کہ اقلیتی امور کے مشیر سے لیکر کمشنر اور ڈایریکٹر اقلیتی مسائل کو بہ حسن و خوبی نبھارہے ہیں۔