کانفیڈریشن آف میناریٹی انسٹیٹیوشنس کی ایوارڈ تقریب‘ پروفیسر عامر اللہ خاں ‘ ایس اے ہدی اور عامر علی خان کے خطاب
حیدرآباد۔12۔ڈسمبر(سیاست نیوز) اردو زبان کا مستقبل کے متعلق فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے آج بھی دنیا بھر کی زبانوں میں اردو زبان 10ویں نمبر پر ہے اور کئی ہندوستانی زبانوں کو پیچھے چھوڑ چکی ہے۔اردو زبان کے مستقبل کے تحفظ ‘ ترقی و ترویج کی ذمہ داری اردو زبان والوں پر عائد ہوتی ہے اور وہ اس زبان کے مستقبل سے مایوس ہونے کی بجائے زبان کو سیکھنے اور اس سے استفادہ کرنے کی منصوبہ بندی کریں۔ کانفیڈریشن آف میناریٹی انسٹیٹیوشنس کے زیر اہتمام منعقدہ ایوارڈ تقریب سے خطاب کے دوران پروفیسر عامراللہ خان اور جناب ایس اے ہدیٰ نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس تقریب میں جناب سید انورالہدیٰ ریٹائرڈ ڈائرکٹر جنرل پولیس ‘ جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر سیاست ‘ جناب فخرعلی خان‘جناب ایم ایس فاروق‘ جناب خلیل الرحمن‘ جناب منظور احمد‘ جناب سید تقی الدین ‘ جناب سید وقار احمد کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ جناب عامر اللہ خان نے بتایا کہ یو پی ایس سی کی تربیت حاصل کرنے والے بیشتر امیدوار اپنی تربیت کے دوران اردو زبان سیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اس خصوص میں اردو زبان اختیار کرتے ہیں۔ انہو ںنے حال میں منظر عام پر آئی ایک رپورٹ کے حوالہ سے کہا کہ مہاراشٹرا میں اردو اسکولوں کا جال پھیل رہا ہے اور اردو زبان میں چلائے جانے والے اسکولوں کی تعداد میں گذشتہ 10 برسوں میں بھاری اضافہ ہواہے۔ انہو ںنے اس موقع پرجناب ظہیر الدین علی خان مرحوم منیجنگ ایڈیٹر سیاست کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان کے انتقال سے جو خلاء پیدا ہوا ہے ان کی کمی ہر شعبہ میں محسوس کی جا رہی ہے ۔ جناب عامر اللہ خان نے کہا کہ جناب ظہیر الدین علی خان نے اپنی زندگی میں اردو کو ٹکنالوجی سے مربوط کرنے جو اقدامات کئے وہ ناقابل فراموش ہیں۔ جناب عامرعلی خان نیوزایڈیٹر سیاست نے اپنے خطاب میں کہا کہ ادارہ سیاست اردو کے فروغ کیلئے مسلسل جدوجہد کررہا ہے اور اردو زبان دنیا بھر میں تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر اسکول انتظامیہ اپنے طلبہ کو خبریں پڑھاکر انہیں دنیا کے حالات سے آگاہ کرتے ہیں تو ادارہ سیاست ’سیاست ٹیلی ویژن‘ پر ننھا اینکر پروگرام شروع کرنے تیار ہے۔ جناب عامر علی خان نے بتایا کہ حیدرآباد اردو زبان کا مرکز ہے اور اس شہر میں اردو کی جو آبیاری ہوئی ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ نیوز ایڈیٹر سیاست نے کہا کہ تلنگانہ میں آج بھی اردو زبان کی بقاء اور ترقی کیلئے اسکول بھی سرگرم ہیں لیکن اعلیٰ تعلیم میں نشانات کے حصول کے چکر میں زبان کی تبدیلی کے سبب ریکارڈ میں اردو کا فروغ نظر نہیں آتا۔ جناب سید انورالہدیٰ نے خطاب میں اسکول کے ذمہ داروں کو مشورہ دیا کہ وہ طلبہ میں اردو زبان کے متعلق دلچسپی پیدا کرنے کے ساتھ انہیں اس کے فوائد سے بھی واقف کروائیں۔ انہو ںنے بتایا کہ اردو زبان نہ صرف ذریعہ تعلیم ہے بلکہ اس کے ذریعہ نئی نسل وتہذیب و تمدن کی تربیت دی جاسکتی ہے۔ انہو ںنے ان کی تعلیم کے دور میں اردو زبان میں تربیت و تعلیم کے طریقہ کار سے واقف کروایا۔ اس تقریب میں مرحوم ظہیر الدین علی خان کی یاد میں شروع کئے گئے ایوارڈس صحافیوں کو پیش کئے گئے۔ ایوارڈ یافتگان میں جناب نعیم وجاہت روزنامہ سیاست ‘ جناب شجیع اللہ فراست ‘ جناب سید فاضل حسین پرویز ‘ جناب میر محسن علی ‘ جناب حسان عرفان کے علاوہ دیگر شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ مختلف اسکولوں میں جہاں اردو زبان میں تعلیم دی جا رہی ہے ان اسکولوں کے اساتذہ اور طلبہ میں بھی ایوارڈ تقسیم کئے گئے ۔