اروناچل پردیش میں مسلمانوں کا سماجی بائیکاٹ ، مسلم ٹرک ڈرائیورس کو زدوکوب

,

   

تبلیغی اجتماع واقعہ کے بعد نفرت کا ماحول گرم ، سماجی بائیکاٹ سے دلبرداشتہ نوجوان محمد دلشاد کی خودکشی

ایٹانگر ۔ /5 اپریل ۔(سیاست ڈاٹ کام) اروناچل پردیش میں مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے کئی ٹرک ڈرائیورس کو مبینہ طور پر زدوکوب کیا گیا ۔ اس واقعہ کے بعد کئی مسلمان پڑوسی ریاست آسام جان بچاکر بھاگ کھڑے ہوئے ۔ اپنے ٹرکوں کو اروناچل پردیش میں چھوڑکر یہ لوگ چلے گئے ہیں ۔ حکام نے کہا کہ یہ واقعہ تبلیغی اجتماع کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور نفرت کے ماحول کو گرمانے سے پیش آیا ہے ۔ دہلی کے نظام الدین میں گزشتہ ماہ تبلیغی جماعت کا اجتماع میں شرکت کرنے والے ہزاروں افراد کا کورونا وائرس ٹسٹ پازیٹیو پانے کے بعد نفرت پیدا ہوئی ہے ۔ عوام کا احساس ہے کہ مسلمانوں کے ٹرکوں میں لائی جانے والی ضروری اشیاء بھی کورونا وائرس سے متاثر ہوسکتی ہے ۔ ڈپٹی کمشنر کو روانہ کردہ ایک مکتوب میں ڈسٹرکٹ فوڈ اینڈ سیول سپلائی آفیسر چکروجیرو نے کہا کہ ٹرک ڈرائیورس نے کلورینا علاقہ میں چاول اپ لوڈ کیا ۔ عین وقت پر چند افراد کا ایک گروپ وہاں پہونچا اور انہیں زدوکوب کرنے لگا ۔ ان کے ٹرکوں کو بھی نقصان پہونچایا گیا ۔ جان کو خطرہ محسوس کرتے ہوئے مسلم ٹرک ڈرائیورس اپنے ٹرکس چھوڑکر آسام کی طرف چلے گئے ۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر پر زور دیا کہ وہ اس معاملہ کو اعلیٰ عہدیداروں تک پہونچائیں اور ٹرک ڈرائیورس کی سلامتی کو یقینی بنائیں ۔ اسی دوران اروناچل پردیش میں مسلمانوں کا سماجی بائیکاٹ شروع کیا گیا ہے ۔ اس سماجی بائیکاٹ سے دلبرداشتہ ہوکر ایک 37 سالہ نوجوان نے خودکشی کرلی ۔ بتایا جاتا ہے کہ محمد دلشاد نامی نوجوان نے اپنے گاؤں میں سماجی بائیکاٹ کا سامنا کرنے پر پریشان ہوگیا ۔ اس پر لوگوں نے طعنے دینے شروع کئے تھے کہ وہ کورونا وائرس کا پازیٹیو مریض ہے جبکہ اسکا ٹسٹ نیگیٹیو پایا گیا ۔