رکن اسمبلی جگاریڈی کا مطالبہ،انکاؤنٹرسے مظالم کو روکا نہیں جاسکتا
حیدرآباد۔/7 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) کانگریس رکن اسمبلی جگاریڈی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ارکان اسمبلی کے گن مین میں تخفیف کرتے ہوئے خواتین کی حفاظت کیلئے الاٹ کریں تاکہ ان کا تحفظ ہوسکے۔ یا پھر خواتین کو حفاظت خود اختیاری کیلئے گن فراہم کی جائے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جگا ریڈی نے کہا کہ انکاؤنٹر سے مظالم کے واقعات میں کمی نہیں ہوگی۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ اس طرح کے واقعات پر قابو پانے کیلئے قدم اٹھائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ سابق میں عصمت ریزی اور قتل کے ملزمین کا انکاونٹر کیوں نہیں کیا گیا اس بارے میں عوام میں سوال کھڑے ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوامی نتیانند پر عصمت ریزی اور قتل کے الزامات ہیں کیا ان کا بھی انکاؤنٹر کیا جائے گا؟۔ انہوں نے کہا کہ انکاؤنٹرس نہیں بلکہ حکومت کو عصمت ریزی اور قتل کے واقعات کیلئے ٹھوس قدم اٹھانے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی وزیر سرینواس یادو انکاؤنٹر کی تائید میں اس طرح بیان دے رہے ہیں جیسے کہ چیف منسٹر نے یہ انکاؤنٹر کرایا ہو۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ انصاف پر مبنی انکاؤنٹر تھا یا پھر سیاسی انکاؤنٹر۔ انہوں نے چیف منسٹر کو مشورہ دیا کہ وہ انکاؤنٹرس کی روایت کو فروغ نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ دشا قتل معاملہ میں تو سنجیدگی سے کارروائی کی گئی اسی طرح دیگر واقعات کے ملزمین کو عاجلانہ سزا کے سلسلہ میں پولیس کوئی دلچسپی نہیں دکھائی رہی ہے۔ انہوں نے حاجی پور میں 3 لڑکیوں کی عصمت ریزی اور قتل کے واقعہ کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان واقعات کے ملزم سرینواس ریڈی کے خلاف آج تک فاسٹ ٹریک کورٹ میں کارروائی مکمل نہیں ہوئی۔ انہوں نے گورنر سے ملاقات کرنے والوں میںہنمنت راؤ اور پونالہ لکشمیا کی عدم موجودگی کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ پارٹی کو مستقبل میں ایسی غلطیوں سے گریز کرنا چاہیئے۔ جگاریڈی نے کہا کہ وہ ایک لڑکی کے باپ کی حیثیت سے پولیس انکاؤنٹر کی تائید کرتے ہیں تاہم قانون ساز اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے ان کا خیال ہے کہ عدالت سے سزا ملنی چاہیئے تھی۔