واشنگٹن: امریکی ایوان نمائندگان میں واضح حمایت کے ساتھ اسرائیل، یوکرین اور تائیوان کو سیکوریٹی تعاون کی مد میں 95 ارب ڈالر کے امدادی پیکیج کی فراہمی کی منظوری دے دی۔ غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان میں تینوں ممالک کو سیکوریٹی کے حوالے سے تعاون کے لیے 95 ارب ڈالر پیکیج کی منظوری دے دی ہے جبکہ ری پبلکن کے سخت گیر اراکین کی جانب سے سخت اعتراضات کیے گئے۔ اسرائیل کو انسانی بنیاد پر درکار ضروریات کے لیے 9.1 ارب سمیت 26 ارب ڈالر فراہم کیے جائیں گے، یوکرین کو 60.84 ارب ڈالر جن میں 23 ارب ڈالر امریکی اسلحہ، اسٹاکس اور تنصیبات کی مد میں شامل ہے۔ تائیوان سمیت ایشیا پیسیفک میں امریکی اتحادیوں کے لیے 8.12 ارب ڈالر اس پیکیج کا حصہ ہیں۔ ایوان نمائندگان سے منظوری کے بعد مذکورہ بل سینیٹ جائے گا جہاں سے دو ماہ سے زائد عرصہ قبل اسی طرح کے اقدامات کی منظوری دی جا چکی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی صدر جوبائیڈن سے سینیٹ میں ری پبلکن کے قائد مچ مک کونیل سمیت امریکی قائدین سینیٹ کے ری پبلکن اسپیکر مائیک جانسن پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ بل ووٹنگ کے لیے ایوان میں پیش کرے۔ سینیٹ میں مذکورہ امدادی پیکیج بل اگلے ہفتہ منظوری ہونے کا امکان ہے، جس کے بعد صدرجوبائیڈن کے دستخط کے ساتھ ہی قانون بن جائے گا۔ ایوان میں بل کی منظوری کے موقع پر درجن بھر اراکین یا ڈیموکریٹک قانون ساز یوکرین کی جھنڈیاں ہاتھ میں لیے ہوئے تھے جبکہ اسپیکر مائیک جانسن کی جانب سے قانون سازوں کو کہا گیا کہ یہ ڈیکورم کی خلاف ورزی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ غیرمعمولی 4 نکاتی پیکیج میں اسرائیل کے لیے فنڈز، تائیوان کے لیے سیکوریٹی تعاون، ایشیا پیسیفک میں اتحادیوں اور پابندیوں سمیت اقدامات، چینی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک پر پابندی کی دھمکی اور روسی منجمد اثاثوں کی یوکرین کو ممکنہ منتقلی شامل ہے۔