اب فلسطینیو ںکو نہ بمباری سے کوئی اجنبیت اور نہ انخلا کے احکامات پر سنجیدہ ردعمل ،غزہ کیساتھ انسانیت بھی تباہ
غزہ : غزہ میں بار بار بمباری اور کئی بار انخلا کے لیے اسرائیلی فوج کے احکامات نے اب فلسطینی شہریوں کو اس حالت کو پہنچا دیا ہے کہ جیسے انہیں بمباری سے کوئی اجنبیت رہی ہے اور نہ انخلا کے احکامات کوئی سنجیدہ توجہ اور رد عمل کا جواز رکھتے ہیں۔دس ماہ سے زائد عرصے پر پھیلی اس جنگ میں ایک علاقے کو خالی کر کے دوسرے میں جا کر پناہ لینے اور بغیر کسی لمبے وقفے کے پھر اگلے انخلا کا حکم مل جاتا ہے۔ رواں ماہ اگست کے دوران تین ہفتوں کے دوران کم از کم 11 بار اہل غزہ کو اسرائیلی فوج کے یہ احکامات موصول ہو چکے ہیں۔غزہ کے جس علاقے میں بے گھر فلسطینیوں کو چند دن یا ہفتے گزارنے کا موقع ملتا ہے اسی علاقے سے اگلے دنوں میں نکلنے کے لیے حکم دے دیا جاتا ہے۔ بار بار کی بے گھری اور بار بار کی بمباری نے فلسطینی عوام کو سخت جان بنا دیا ہے۔اب کی بار اڑھائی لاکھ فلسطینیوں کو دوبارہ سے یہی حکم اسرائیلی فوج نے سنا دیا ہے۔ اس نئے حکم کا نشانہ وہ فلسطینی بن رہے ہیں جو اس سے پہلے بھی اس جبری انخلا کی اذیت و آزمائش سے بے گھر ہونے کے بعد نکل چکے ہیں۔جمعرات کے روز پیغام دیا گیا ہے کہ ہمیں خان یونس کے علاقے میں دہشت گردوں کو نشانہ بنانا ہے اس لیے آپ یہاں سے نکل جائیں۔ یہ آپ کی سلامتی اور تحفظ کے لیے ضروری ہے۔اس لیے جلدی علاقہ خالی کر دیں۔ اسرائیلی فوج نے یہ حکم ایسے وقت میں دیا ہے جب مذاکرات کی قاہرہ بیٹھک بھی قریب آرہی ہے۔ھیثم عبد لال اے ایف پی سے کہتے ہیں لیکن کونسی جگہ ہمارے لیے محفوظ ہے کہ ہم وہاں چلے جائیں۔ ہم جہاں پہنچتے ہیں وہیں بمباری ہو جاتی ہے یا وہاں سے بھی انخلا کو کہہ دیا جاتا ہے۔’ایمن ابو دقہ بھی انہی بے گھر فلسطینیوں میں سے ایک ہیں۔ ان کا کہنا ہے’ آگے قدم رکھنے کے لیے کوئی جگہ ہی نہیں رہی ہے۔ کوئی جگہ محفوظ نہیں رہی ہے۔ ہم کہاں جائیں؟ایمن ابو دقہ پانچ بچوں کی ماں ہیں وہ کہہ رہی تھیں’ میں گلی میں رہتی ہوں۔ کہ میرے پاس گدھا گاڑی کو کرایہ دینے کے لیے پانچ سو شیکل نہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کونسی جگہ محفوظ ہے اور کہاں ہمیں جانا ہے۔ اسرائیلی انخلاء کے احکامات کا یہ اندھا دھند سلسلہ اقوام متحدہ کے اداروں کی طرف سے امدادی کارروائیوں کو بھی مزید مشکل بناتا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے دفتر’ اوچھا ‘نے کہا کہ چہارشنبہ کے انخلاء کے حکم میں 80 عارضی جگہیں بلکہ امدادی ایجنسیوں کے زیر استعمال دفاتر اور گودام بھی شامل ہیں۔’ او سی ایچ اے’ نے مزید کہا کہ احکامات سے پانی کے تین کنویں جو ہزاروں لوگوں کو پانی کی فراہمی کا ذرہعہ ہیں وہ بھی متاثر ہوئے ہیں۔ بعض اوقات انخلاء سڑکیں بند کرنے کا حکم دیتا ہے، بشمول مرکزی صلاح الدین شاہراہ جو غزہ کی لمبائی میں شمال سے جنوب تک جاتی ہے۔