اسرائیلی اور فلسطینی وزیر برسلز میں، لیکن باہمی ملاقات نہیں ہو گی

   

بروسلز ۔ 14 جولائی (ایجنسیز) یورپی یونین اور اس کے جنوبی ہمسایہ ممالک کے آج برسلز میں ہونے والے ایک وزارتی اجلاس میں اسرائیلی اور فلسطینی وزرائے خارجہ کی شرکت بھی متوقع ہے۔ تاہم فلسطینی اتھاریٹی نے دونوں وزراء کی کسی باہمی ملاقات کی تردید کی ہے۔ اگر یہ دونوں وزرائے خارجہ ایک ہی اجلاس میں شریک ہوتے ہیں، تو یہ اکتوبر 2023ء میں غزہ پٹی کی جنگ کے آغاز کے بعد سے پہلا موقع ہو گا کہ دونوں فریقوں کے اعلیٰ سطحی حکومتی نمائندے ایک ہی کمرے میں موجود ہوں گے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون سعار کے دفتر کے مطابق وہ اس اجلاس میں شرکت کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس اور بحیرہ روم سے متعلقہ امور کی یورپی کمشنر دوبراوکا سویسا سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ سعار دیگر وزرائے خارجہ سے بھی علیحدہ ملاقاتیں کریں گے۔ فلسطینی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ رام اللہ میں قائم فلسطینی اتھاریٹی کی وزیر خارجہ وارسین آغابیکیان شاہین اس اجلاس میں شریک ہوں گی تاہم ان کی ان کے اسرائیلی ہم منصب سے کسی بھی قسم کی ملاقات کے امکان کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق، شاہین اپنے خطاب میں ’’غزہ میں جاری نسل کشی اور جبری بے دخلی، اسرائیلی ریاست کی جانب سے بھوک کی صورتحال پیدا کرنے کی منظم پالیسی، اور فلسطینی حکومت پر مالیاتی پابندیوں‘‘ پر روشنی ڈالیں گی۔ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شاہین مقبوضہ مغربی کنارہ کی صورتحال پر بھی بات کریں گی، جہاں اسرائیلی فوج کے شمالی علاقوں میں کئی مہینوں سے جاری آپریشن نے ہزاروں فلسطینیوں کو بے گھر کر دیا ہے۔ شاہین کی کالاس اور متعدد یورپی وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں بھی طے ہیں، جن میں وہ ’’نسل کشی، قبضے، اور زمینوں کے انضمام جیسے جرائم کے فوری خاتمے اور اسرائیلی حکومت کو امن کے بین الاقوامی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنے‘‘ کا مطالبہ کریں گی، تاکہ فلسطینی عوام کو ان کا حق خودارادیت حاصل ہو سکے۔