رملہ، 28 نومبر (یو این آئی) غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج کی جانب سے بربریت کا سلسلہ جاری ہے ، قابض فوج نے مغربی کنارے میں فائرنگ کرکے مزید 2 فلسطینیوں کو شہید کردیا۔ فلسطینی ٹی وی نے یہ مناظر دکھائے کہ اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 2 فلسطینی غیرمسلح شہریوں کو اس وقت شہید کر دیا جب وہ اسرائیلی فوج کے کہنے پر تعاون کیلئے بھی تیار تھے ۔ اس افسوسناک واقعے پر اسرائیلی پولیس اور فوج کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مغربی کنارے کے شہر میں جنین میں 2 فلسطینیوں کو قتل کرنے کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے ۔
غزہ میں انسانی بحران سنگین، اسرائیلی حملوں سے امداد مکمل مفلوج ہوگئی، اقوام متحدہ کا ہنگامی انتباہ
غزہ ۔ 28 نومبر (ایجنسیز) غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں اور سخت پابندیوں کے باعث امدادی سامان کی ترسیل شدید مشکلات کا شکار ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہیکہ صورتحال بدترین انسانی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے۔اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کے مطابق غزہ کے زیادہ تر ہاسپٹل مکمل طور پر غیر فعال ہو چکے ہیں، جبکہ صرف 18 ہاسپٹل جزوی طور پر خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ 16 ہزار 500 سے زائد مریض ایسے ہیں جنہیں فوری طور پر غزہ سے باہر منتقل کر کے علاج کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ پٹی میں جاری لڑائی نہ صرف بڑے جانی نقصان کا باعث بن رہی ہے بلکہ انسانی امداد کی ترسیل کو بار بار روک رہی ہے۔اقوام متحدہ کی جانب سے اسرائیلی حکام کے ساتھ امدادی سرگرمیوں کی 8 منصوبہ بند نقل و حرکت میں سے صرف ایک کی اجازت دی گئی، جبکہ باقی سات کو روک دیا گیا یا منسوخ کر دیا گیا۔ترجمان نے کہا کہ غزہ میں پہنچنے والا ہر امدادی ٹرک اہم فرق پیدا کرتا ہے، اور جیسے ہی پابندیاں نرم ہوں گی، اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار امدادی کاموں میں بڑا اضافہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے غیر مشروط انسانی رسائی دینے کی فوری اپیل بھی کی۔
فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ شہید ہونے والے فلسطینیوں کے شناخت 26 سالہ المنتاثر باللّٰہ اور 37 سالہ یوسف کے نام سے ہوئی ہے ۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے حماس کے پانچ سینئر کمانڈروں کو ایک جوابی حملے میں ہلاک کر دیا ہے ، تنظیم نے فوجیوں پر اپنے ایک کارندے کو بھیجا تھا۔ اسرائیل نے الزام لگایا ہے کہ حماس نے سیز فائر کی خلاف ورزی کی اور اپنے ایک رکن کو اسرائیلی فوجیوں پر حملے کیلئے بھیجا، جس کے جواب میں اسرائیل نے اس کے اہم رہنماؤں کو نشانہ بنایا۔