اسرائیل امداد بند کرنے کی دھمکی سے پسپا

   

غزہ، 15 اکتوبر (یو این آئی) حماس نے مزید 4 اسرائیلی یرغمالیوں کی نعشیںریڈ کراس کے حوالے کر دی ہیں، جس سے اب تک واپس کی جانے والی نعشوںکی تعداد 8 ہو گئی ہے ، مزیدنعشیںبھی آج اسرائیل کے حوالے کی جائیں گی۔ قطری نشریاتی ادارے ‘الجزیرہ’ کے مطابق اسرائیل نے دھمکی دی کہ وہ غزہ میں صرف طے شدہ امدادی ٹرکوں کی نصف تعداد کو داخل ہونے کی اجازت دے گا اور رفح کراسنگ کو کھولنے میں تاخیر کرے گا، اس کی وجہ اس نے قیدیوں کی نعشوںکی سست رفتاری سے واپسی کو قرار دیا، تاہم بعد ازاں وہ اس دھمکی سے پسپا ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 20 نعشیںاب بھی غزہ میں موجود ہیں۔ اسرائیل کی غزہ پر مسلط کردہ جنگ میں کم از کم 67 ہزار 913 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 70 ہزار 134 زخمی ہوئے ہیں۔ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں اسرائیل میں ایک ہزار 139 افراد ہلاک ہوئے تھے اور تقریباً 200 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا، تاہم گزشتہ ہفتے سے ہونے والی جنگ بندی اب تک برقرار ہے ۔ الجزیرہ کی سینئر نمائندہ نور اودے نے اردن سے رپورٹ کیا کہ یہ تصدیق موصول ہو رہی ہے کہ صہیونی سیاسی قیادت نے دراصل ایک ایسا قدم اٹھایا تھا، جسے زیادہ تر ایک دکھاوے کے طور پر دیکھا گیا تھا، اور وہ اب پیچھے ہٹ رہی ہے ۔ یاد رہے کہ معاہدے میں یہ شرط شامل نہیں تھی کہ تمام 28 نعشوںکی واپسی 72 گھنٹوں کے اندر ہونی لازمی تھی، وہ مدت صرف زندہ قیدیوں پر لاگو ہوتی تھی۔ جنوری ہی میں اس بات کا اعتراف اور تسلیم کر لیا گیا تھا کہ لاشوں کو بازیاب کرنا ایک مشکل عمل ہے ۔ موساد کے سربراہ نے قیدیوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی تھی اور اس معاملے پر اس وقت بھی بات چیت کی تھی جب ابھی معاہدہ طے نہیں پایا تھا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ ثالثوں نے اس معاملے میں کیا کردار ادا کیا، لیکن اسرائیلی نشریاتی ادارے اور دیگر اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی حکومت نے اقوامِ متحدہ سے اپنی پہلے کی گئی بات چیت، جس میں امدادی ٹرکوں کی تعداد آدھی کرنے اور رفح کراسنگ نہ کھولنے کا اشارہ دیا گیا تھا، سے پسپائی اختیار کر لی ہے ۔