اسرائیل نے امدادی سامان روک دیا، سینکڑوں ٹرک مصر میں پھنس گئے

   

قاہرہ: بین الاقوامی امدادی سامان لے جانے والے سینکڑوں ٹرک شمالی سیناء میں پھنسے ہوئے ہیں جو غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کو اشد ضروری خوراک، کپڑے اور ادویات پہنچانے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ ڈبلیو ایچ او (عالمی ادارۂ صحت) نے تباہ کن حالات سے خبردار کیا ہے۔ مصری وزیرِ اعظم مصطفی مدبولی نے امدادی کارروائیوں کے جائزے کے لیے رفح گذرگاہ کا معائنہ کیا۔مدبولی نے کہا۔ ہم اجتماعی سزا کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں جو غزہ کے شہریوں پر جاری ہے۔ تنازعات کے اس دور کے آغاز کے بعد سے صدر عبدالفتاح السیسی اور محکمہ شہری امور سمیت ریاست کے تمام اداروں سے شروع کرتے ہوئے مصر انتھک محنت کر رہا ہے اور آگے بڑھ رہا ہے۔شہری روزانہ کی بنیاد پر بمباری کا نشانہ بن رہے ہیں جن کو امدادی سامان پہنچانے کے لیے درجنوں ٹرک رفح گذرگاہ کے مختصر افتتاح کے انتظار میں رکے ہوئے ہیں۔دریں اثناء اب تک کی صورتِ حال نے لوگوں کے ایمان کو جھٹکہ پہنچایا ہے۔ایک امدادی رضاکار ریم علی نے کہا کہ ہم نے سوچا کہ یہ عمل تیز ہو جائے گا اور ہمیں غزہ تک امداد پہنچانے میں دو دن بھی نہیں لگیں گے۔ لیکن بہت کم پیش رفت کے ساتھ ہم یہاں 15 دنوں سے موجود ہیں۔ مصر کسی بھی کوشش سے پیچھے نہیں ہٹ رہا۔’7 اکتوبر کو بحران شروع ہونے کے بعد سے صرف 250 امدادی ٹرکوں کو غزہ جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ تعداد روزانہ اوسطاً 10 ٹرک ہے۔ مصر امداد کی اس سست رفتاری کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیتا ہے۔رفح گذرگاہ کے لیے دو اطراف سے راستے ہیں۔ مصری جانب سے گذرنے والے تمام ٹرکوں کا اسرائیلی حکام غزہ تک پہنچنے سے پہلے معائنہ کرتے ہیں۔مصری اسٹیٹ انفارمیشن سروس کے چیئرمین دیا راشوان نے کہا۔ ’’جو چیز آپ کو (غزہ میں داخل ہونے سے) روک رہی ہے وہ مصری حکام نہیں ہیں۔مصری حکومت اس وقت سرحد سے صرف ایک میٹر کے فاصلے پر کھڑی ہے۔ تاہم ہمیں (صحافیوں کے) تحفظ کے لیے قابض فوج سے کوئی ضمانت نہیں ملتی۔ جب آپ غزہ میں داخل ہوں گے تو کوئی بھی آپ کی حفاظت کو یقینی نہیں بنائے گا۔