اسرائیل پر 7 اکتوبر کے حملے میں حماس جنگی جرائم کا مرتکب

   

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں صرف اسرائیل کو نقصان کا تذکرہ، اس کے بعد کی بربریت کا کوئی ذکر نہیں

لندن : انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ حماس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر اچانک حملے میں سینکڑوں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا اور دیگر فلسطینی مسلح گروہوں کی قیادت کی۔فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ہیومن رائٹس واچ کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر بیلکیس ولی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ہمارے لیے مخصوص واقعات کی تعداد کا اندازہ لگانا ناممکن ہے، ظاہر ہے کہ اس دن سینکڑوں تھے۔ ان جرائم میں شہریوں پر جان بوجھ کر اور اندھا دھند حملے شامل ہیں جن میں زیر حراست افراد کا جان بوجھ کر قتل، ظالمانہ اور دیگر غیر انسانی سلوک، جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد، یرغمال بنانا، لاشوں کو مسخ کرنا اور برباد کرنا، انسانی ڈھال کا استعمال اور لوٹ مار شامل ہے۔رپورٹ میں بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جو جنیوا کنونشنز میں درج ہیں۔اگرچہ حماس کو اس حملے کے ماسٹر مائنڈ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن رپورٹ میں بشمول فلسطینی اسلامی جہاد دیگر مسلح گروہوں کی فہرست دی گئی ہے جنہوں نے 7 اکتوبر کو جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔بیلکیس نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعی غزہ کے شہری نہیں تھے جنہوں نے بدترین زیادتیوں کا ارتکاب کیا، یہ ایک دعویٰ تھا جو حماس کی طرف سے واقعات سے خود کو دور کرنے کے لیے اور اسرائیل کی طرف سے اپنی انتقامی کارروائی کو جواز فراہم کرنے کے لیے بہت جلد کیا گیا تھا۔انہوں نے غزہ کے ارد گرد شہروں، کبوتز کمیونٹیز اور فوجی اڈوں پر حملے کی ’ناقابل یقین حد تک منظم اور مربوط نوعیت‘ کی طرف اشارہ کیا۔اسرائیلی اعداد و شمار پر مبنی اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق حملے کے نتیجے میں 1195افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔عسکریت پسندوں نے 251 افراد کو یرغمال بنایا جن میں سے 116 غزہ میں باقی ہیں اور 42 ہلاک ہو چکے ہیں۔غزہ کی وزارت صحت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کی فوجی کارروائی میں غزہ میں38664 افراد جاں بحق ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔رپورٹ میں صرف 7 اکتوبر کے واقعات کا احاطہ کیا گیا تھا اس کے بعد کی جنگ کا ذکر نہیں کیا گیا۔