اسرائیل کو فلسطینی شہریوں کو مارنے کاحق نہیں : مہاتیر محمد

   

کوالالمپور: ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر بن محمد نے کہا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کا فوجی حملہ ایک غیر متناسب ردعمل ہے، اور اس تنازعے کو حماس کے ساتھ مذاکرات اور دو ریاستی حل کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔مہاتیر محمد 1981 سے 2003 اور 2018 سے 2020 تک بطور وزیراعظم رہے۔ وہ ملائشیا کی تاریخ میں سب سے طویل عرصہ تک وزیراعظم رہے۔ مہاتیر محمد لمبے عرصے سے فلسطینی قومی حقوق کے حامی رہے ہیں۔عرب نیوز کی اسسٹنٹ ایڈیٹر انچیف نور نقل کیساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پچھلے نکبہ سے بھی بدتر ہے کیونکہ یہ جنگ نہیں ہے، یہ محض ایک انسانیت سوز ظلم ہے۔‘’ہم فوجیوں کو آپس میں لڑتے ہوئے نہیں دیکھ رہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسرائیلی فوجی شہریوں کو مار رہے ہیں۔ یہ جنگ نہیں ہے۔ یہ ایک انسانی تباہی ہے۔‘امریکہ اور بہت سی دوسری مغربی حکومتوں نے بارہا اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور اس کی حماس کو ختم کرنے کی وسیع پیمانے پر حمایت کی ہے۔ حماس کو واشنگٹن اور بہت سے یورپی ممالک دہشت گرد تنظیم تصور کرتے ہیں۔مہاتیر محمد نے کہا کہ ’اسے اپنے دفاع کا حق حاصل ہے لیکن اسے یہ حق نہیں کہ فلسطینی شہریوں کو بے دریغ قتل کرے۔‘