غزہ کے لوگ کھنڈرات میںپناہ لئے ہوئے ہیں ، امدادی راستے کھولے جائیں : آئی او ایم
غزہ: غزہ میں فلسطینی شہریوں کی پناہ گاہوں پر اسرائیل کے رات بھر حملوں میں کم از کم 45 فلسطینی اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔قطری نشریاتی ادارے ‘الجزیرہ’ کی رپورٹ کے مطابق طبی ذرائع نے بتایا کہ چہارشنبہ سے جمعرات کی صبح تک صہیونی فوج نے مظلوم فلسطینی عوام کی پناہ گاہوں پر حملے جاری رکھے ، بمباری کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 45 افراد شہید ہوئے ، شہدا میں ایک صحافی بھی شامل ہے ۔آج جمعرات کی صبح سے اب تک کے حملوں میں 13 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔غزہ کے مرکزی خیمے کی پناہ گاہ پر اسرائیلی حملے میں 3 بچے بھی شہید ہوئے ، اس سے پہلے وسطی غزہ میں نصیرات کے مغرب میں خیمہ پناہ گاہ پر مہلک اسرائیلی حملے کی اطلاع ملی تھی۔اب مقامی فلسطینی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ فضائی حملے میں 3 بچے شہید ہوئے جس کے نتیجے میں فراز اللہ خاندان کے خیمے کی پناہ گاہ میں آگ لگ گئی۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بچے آگ میں جل کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔غزہ میں طبی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے ‘الجزیرہ عربی’ نے اطلاع دی کہ شہید ہونے والوں میں الاقصیٰ ریڈیو کے صحافی سعید ابو حسنین بھی شامل ہیں۔18 ماہ قبل غزہ پر اسرائیل کی جنگ مسلط کرنے کے بعد سے اب تک کم از کم 51 ہزار 305 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 17 ہزار 96 زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے ۔غزہ حکومت کے میڈیا آفس نے شہادتوں کی تعداد 61 ہزار 700 سے زائد بتائی ہے ، اور کہا ہے کہ ملبے تلے دبے ہزاروں افراد کو مردہ تصور کیا جارہا ہے ۔حماس کی زیر قیادت 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل میں ہونے والے حملوں میں کم از کم ایک ہزار 139 افراد ہلاک ہوئے تھے ، اور 200 سے زائد افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔دریں اثناء بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت ‘آئی او ایم’ نے اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور کے اعداد و شمار کے حوالے سے کہا ہے کہ غزہ میں 90 فیصد سے زیادہ گھروں کو تباہ کر دیا گیا یا شدید نقصان پہنچا یا گیا ہے۔ علاقے میں اسرائیل کی جاری جنگ نے شہریوں کو انسانی بحران کی گہرائیوں میں دھکیل دیا ہے۔ایجنسی نے چہارشنبہ کے روز ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ “علاقے میں کوئی محفوظ جگہ نہ ہونے کی وجہ سے فلسطینی خاندان غیر محفوظ کھنڈرات میں پناہ لے رہے ہیں۔’آئی ایم او’ کے پاس پناہ گاہ امداد تیار ہے لہٰذا داخلے کے راستے فوراً کھولے جائیں۔قحط کی متعدد رپورٹیں جاری ہونے کے باوجود اسرائیل نے، 2 مارچ سے، غزہ کے راستے بند کر رکھے ہیں، جس کی وجہ سے جنگ زدہ علاقے میں ضروری سامان کی ترسیل رک گئی ہے۔اسرائیلی فوج نے 18 مارچ کو یکطرفہ طور پر غزہ میں دوبارہ سے نسل کش جنگ شروع کر کے، 19 جنوری کو طے پانے والے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے، معاہدے کو توڑ دیاتھا۔اب تک اس قتل عام میں، زیادہ تر عورتوں اور بچوں پر مشتمل، 51,300 سے زیادہ فلسطینی قتل کئے جا چکے ہیں۔ یہ تعداد اس وقت نئے ریکارڈ کے مطابق بڑھ کر 62,000 ہو چْکی ہے۔