اسرائیل کی فوجی حکمتِ عملی کا الٹا ردِعمل ہوسکتا ہے‘بارک اوباما نے کیا خبردار

,

   

خوراک، پانی اور بجلی منقطع کرنے کے فیصلہ سے انسانی بحران کے مزید متاثر ہونے کا خطرہ : سابق امریکی صدر
واشنگٹن :امریکا کے سابق صدر بارک اوباما نے حماس اور اسرائیل جنگ کے حوالے سے اسرائیل کو خبردار کر دیا۔اس حوالے سے پیر کو بارک اوباما نے کہا کہ حماس کے خلاف جنگ میں اسرائیل کے کچھ اقدامات جیسے غزہ کے لیے خوراک اور پانی کی بندش فلسطینیوں کے رویوں کو نسلوں کے لیے سخت کر سکتے ہیں۔سابق امریکی صدر نے کہا کہ یہ اقدامات اسرائیل کے لیے بین الاقوامی حمایت کو کمزور کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ میں قید شہری آبادی کے لیے خوراک، پانی اور بجلی منقطع کرنے کے فیصلے سے ناصرف بڑھتے ہوئے انسانی بحران کو مزید خراب کرنے کا خطرہ ہے بلکہ یہ فلسطینیوں کے رویوں کو نسلوں کے لیے مزید سخت کر سکتا ہے۔بارک اوباما نے کہا کہ اسرائیل کی فوجی حکمتِ عملی کا الٹا ردِعمل آ سکتا ہے۔علاوہ ازیں انہوں نے اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا۔امریکہ کے سابق صدر نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں کارروائیاں طویل مدتی نتائج کا باعث بن سکتی ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیلی بربریت پر سابق امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ حماس کے خلاف اسرائیل کی جنگ میں غزہ میں پانی اور کھانا بند کرنے سے نہ صرف فلسطینیوں کے رویے مزید سخت ہو جائیں گے بلکہ اس سے اسرائیل کی بین الاقوامی حمایت بھی کمزور پڑ جائے گی۔ اوباما نے یہ بھی کہا کہ انسانی جانوں کی قیمتوں کو نظر انداز کرنے کی اسرائیل فوج کی حکمت عملی انہیں الٹا جواب دے سکتی ہے۔واضح رہے کہ اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے اب تک 5 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اور مقبوضہ فلسطین کے محصور شہر غزہ کے ال آہلی ہاسپٹل پر میزائل حملے کے بعد اسرائیل نے مزید ہاسپٹلس پر بمباری کی دھمکی دی ہے اور ہاسپٹلس خالی کرنے کی وارننگ دی ہے۔واضح رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر سے اسرائیلی حملے جاری ہیں جن میں شہداء کی تعداد 5 ہزار 200 سے زائد ہو چکی ہے جن میں 2 ہزار 55 بچے اور 1100 خواتین شامل ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق زخمیوں کی تعداد 15 ہزار سے زائد ہو گئی ہے اور ان زخمیوں کو ہاسپٹلس میں دواؤں اور ایندھن کی قلت کے باعث مزید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ غزہ میں 830 بچوں سمیت 1500 افراد لاپتہ بھی ہیں جن کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔عرب ٹی وی کو انٹرویو میں فلسطینی ہلال احمرکی ترجمان نیال فرسخ نے بتایاکہ اسرائیلی فوج مسلسل غزہ پٹی کے ہاسپٹلس کو خالی کرانے کی وارننگ دے رہی ہے اور اسرائیلی طیارے غزہ کے ہاسپٹلس کے بالکل قریب بمباری کر رہے ہیں۔اسرائیل نے پیر کے روز غزہ میں اپنے فضائی حملوں میں اضافہ کر دیا جہاں مرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ اسرائیل نے دو چھوٹے امدادی قافلوں کو محصور ساحلی شہر میں داخلے کی اجازت دی ہے لیکن ایندھن کی کسی امداد کو داخلے کی اجازت نہیں دی جہاں لگ بھگ دو ہفتے سے بجلی بند ہے۔ ہاسپٹلس کا کہنا ہے کہ وہ زندگی بچانے والے طبی آلات اور قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے انکیوبیٹرز کو چلانے والے جنریٹرز کے لیے ایندھن کی شدید قلت ہے۔