برسلز : یورپی یونین کے اعلیٰ سفارت کار نے کہا ہے کہ اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر کی طرف سے غزہ کی امداد بند کرنے کے مطالبے کے جواب میں انہیں پابندیوں پر غور کرنا چاہیے۔اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا کہ اتمار بین گویر کے حالیہ ریمارکس جنگی جرائم کیلئے اشتعال دلانے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پابندیاں ہمارے یورپی یونین کے ایجنڈے پر ہونی چاہئیں۔ایکس پر اپنی پوسٹ میں اور میڈیا انٹرویوز میں بین گویر نے کہا کہ ممکنہ جنگ بندی کے معاہدے پر رضامند ہونے کے بجائے اسرائیل کو غزہ میں انسانی امداد اور ایندھن کا داخلہ اس وقت تک کیلئے روک دینا چاہیے جب تک حماس تمام مغویوں کو رہا نہ کر دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح گروپ گھٹنے ٹیک دے گا۔بین گویر نے غزہ پر مستقل طور پر دوبارہ قبضہ کرنے اور فلسطینیوں کی علاقے سے رضاکارانہ نقل مکانی کی حوصلہ افزائی کرنے کا بھی بارہا مطالبہ کیا ہے۔وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے گورننگ اتحاد کے ایک اہم رکن بین گویر نے دھمکی دی ہے کہ اگر جنگ بندی کے مذاکرات میں بہت زیادہ رعایتیں دی گئیں تو وہ حکومت گرا دیں گے۔بوریل نے اسرائیل کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ نیک جذبے سے امریکہ، قطر اور مصر کی ثالثی میں جنگ بندی کے مذاکرات کے ساتھ شامل ہو۔