نیوکلیئر ہتھیارو ں کی تحقیقات کی جائے : روس
ماسکو: روس نے اسرائیلی وزیر کے غزہ پر ایٹم بم حملے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دھمکی نے سولاات کو جنم دیا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی وزیر کی جانب سے غزہ پر جوہری بم حملے کے آپشن سے متعلق بیان پر روس کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیر کے بیان سے ثابت ہوگیا ہے کہ اسرائیل کے پاس نہ صرف جوہری ہتھیار موجود ہیں بلکہ وہ انہیں استعمال کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔ترجمان روسی وزارت خارجہ ماریا زخاروف نے کہا کہ اہم ترین بات یہ ہے کہ اسرائیل نے بظاہر یہ تسلیم کرلیا ہے کہ اس کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ اس حوالے سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں سرکاری موقف سن رہے ہیں؟ اور اگر اس سوال کا جواب اثبات میں ہے تو پھرانٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی اور ایٹمی نگرانی کے دوسرے بین الاقوامی ادارے کہاں ہیں۔دوسری طرف روس نے غزہ پر ایٹمی حملے سے متعلق اسرائیلی وزیر کے بیان پر بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے۔روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ اسرائیلی جونیئر وزیر کے ایک بیان نے بہت سارے سوالات کو جنم دیا ہے، اصل مسئلہ یہ ہے اسرائیل نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔خیال رہے کہ اسرائیل عوامی طور پر یہ تسلیم نہیں کرتا کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں، حالانکہ فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس کا اندازہ ہے کہ اسرائیل کے پاس تقریبا 90 نیوکلئیر وار ہیڈز ہیں۔