دفعہ 153 کے تحت من مانی مقدمہ، یا اعلیٰ عہدیدار کا انتباہ
حیدرآباد ۔ پرانے شہر کے علاقہ میں پیش آئے واقعات کے بعد سٹی پولیس کی فرقہ پرست پالیسی آشکار ہوگئی ہے۔ جہاں شکایت گذار کی مرضی کے خلاف مبینہ طور پر پولیس نے ایف آئی آر درج کی اور سنگین دفعات عائد کرتے ہوئے دو مسلم نوجوانوں کو جیل منتقل کیا۔ عرصہ دراز کے بعد اس طرح کے دفعات کو درج کیا گیا جو عام طور پر فرقہ وارانہ تشدد پر عائد کئے جاتے ہیں۔ گزشتہ روز برقعہ پوش مسلم لڑکی کے ساتھ بہار کے متوطن پپو کمار کو گھومتا دیکھ کر مسلم نوجوانوں نے نصیحت کی تھی کہ وہ اگر گھومنا چاہتی ہے تو پھر برقعہ کا سہارا نہ لے چونکہ اس حرکت کے سبب معاشرے میں بگاڑ ہوسکتا ہے اور مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ پپو کمار کی بحث و تکرار پر اسے بعض نوجوانوں نے زدوکوب کیا۔ پولیس نے پپو کمار کی شکایت پر مقدمہ درج کیا اور سنگین دفعات عائد کرتے ہوئے مسلم نوجوانوں کو جیل بھیج دیا۔ پرانے شہر کی عوام کا کہنا ہے کہ پپو کمار نے شکایت نہ کرنے کی خواہش کی تھی تاہم پولیس نے اس پر دباؤ ڈالہ کے وہ شکایت کرے۔ اس کے بعد ایف آئی آر میں اپنی دل کی تمنا و آرزو کو پورا کیا اور ایسے ایسے جملے اور الفاظ کو درج کیا جو اس واقعہ اور حقیقت سے میل نہیں کھاتے۔
اس ایف آئی آر سے پولیس کی ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے اور فرقہ پرست سازش کا اندیشہ پرانے شہر پر منڈلانے لگا ہے۔ جو امن کی محافظ پولیس ہے اس کی ذہنیت کو بھی اس تازہ واقعہ نے آشکار کردیا۔ پولیس انسپکٹر مغل پورہ پر پولیس تحویل میں نوجوانوں کو شدید زدوکوب کرنے اور شکایت گذار پر دباؤ ڈالتے ہوئے اس سے جبراً شکایت کروانے کے الزامات پائے جاتے ہیں۔ باوثوق ذرائع اور پرانے شہر کی عوام کے الزامات اور سوشل میڈیا کے تبصروں کے مطابق اے سی پی میر چوک کی ہدایت پر مغل پورہ انسپکٹر نے فوری اقدام کرتے ہوئے مسلم نوجوانوں کے خلاف سنگین دفعات درج کئے۔ ان الزامات پر ردعمل اور وضاحت کے لئے جب ان دونوں عہدیداروں اے سی پی میر چوک اور انسپکٹر مغل پورہ سے رابطہ قائم کیا گیا تو وہ رابطہ میں نہیں آئے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا اے سی پی نے کسی اعلیٰ عہدیدار کی اجازت لی تھی؟ ان دنوں اے سی پی میر چوک پر اولڈ سٹی کے کمشنر ہونے کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔ جو اپنی من مانی اور اختیارات سے خود کو اولڈ سٹی کا کمشنر محسوس کرنے لگے ہیں، جب چاہے جس پر چاہے کچھ بھی بے بنیاد الزامات لگادیا۔ پرانے شہر جو ایک عرصہ دراز سے اس طرح کے دفعات سے محفوظ تھا اب دوبارہ عوام میں مغل پورہ پولیس کی کارروائی سے بے چینی کا سبب گیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ شاید پولیس کافی عرصہ سے اس طرح کے دفعات کو عائد کرنے کے لئے بے چین و بے قرار تھی۔ چند تنظیمیں اس واقعہ کو انسانی حقوق کمیشن سے رجوع پر غور کررہی ہیں۔