شیعہ امام بارگاہ کے قریب مکانات کے شیشے ٹوٹ گئے، خودکش حملہ آور کیساتھ دیگر نعشیں بکھر گئیں
اسلام آباد 6 فروری (ایجنسیز) پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ایک شیعہ مسجد میں آج خودکش بم حملے کے نتیجہ میں کم از کم 70 افراد جاں بحق ہوئے اور تقریباً 170 دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ اسلام آباد میں یہ اپنی نوعیت کا بدترین واقعہ ہے جس میں شہر کے جنوب مشرقی علاقہ ترلائی کلاں میں واقع خدیجۃ الکبریٰ مسجد میں نماز جمعہ کے دوران طاقتور دھماکہ پیش آیا۔ فوری طور پر کسی بھی گروپ نے اِس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ شہر کے تمام دواخانوں میں ایمرجنسی لاگو کردی گئی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ سکیورٹی گارڈس نے مشتبہ شخص کو روکنے کی کوشش کی جس نے اُن پر فائرنگ کردی اور مسجد کے باب الداخلہ پر دھماکہ کردیا۔ دھماکہ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ شیعہ امام بارگاہ کے قریب مکانات کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ خودکش حملہ آور کے ساتھ دیگر متعدد نعشوں کے اعضا ادھر ادھر بکھر گئے۔ واقعہ کے بعد پولیس نے علاقہ کی ناکہ بندی کردی۔ آصف کا دعویٰ ہے کہ حملہ آور افغانستان سے آتا جاتا رہا ہے۔ اسلام آباد کے انتظامیہ نے کہاکہ زخمیوں کو دھماکہ کے مقام سے نکال کر ریسکیو ٹیموں نے دواخانوں کو منتقل کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر خون میں لت پت نعشیں مسجد کے صحن میں دکھائی دے رہی ہیں۔