اسمارٹ فون کے متبادل کیلئے نئی ڈیوائس ’اے آئی پن‘ تیار

   

نیویارک : امریکی ریاست کیلیفورنیا کی سیلیکون ویلی میں قائم ہیومن کمپنی نے اسمارٹ فون کے متبادل کے طور پر ایک اے آئی پن (آرٹی فیشل اینٹلی جنس پن) تخلیق کی ہے جو گفتگو اور ٹائپنگ کے بجائے ٹیپنگ پر انحصار کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں موجود کمانڈز پیغامات بھیجنے اور اپ ڈیٹس وصول کرنے جیسے فرائض انجام دیں گی۔ اس حیرت انگیز تخلیق کی اہم بات یہ ہے کہ اب آپ کو اپنے ہاتھ سے بات کرنا ہے، جی ہاں اس اے آئی ڈیوائس میں ایک لیزر کو استعمال کرکے آپ کے فون کو آپ کی ہتھیلی پر پروجیکٹ کیا گیا ہے، لیکن یہ کافی مہنگا ہے۔ اے آئی پن میں کوئی اسکرین یا ایپس نہیں ہے اس میں ایک لیزر کو پروجیکشن سسٹم کے طور پر استعمال کیا گیا ہے تاکہ استعمال کرنے والے شخص کی ہتھیلی پر ٹیکسٹ اور مونو کرومیٹک امیجز ڈسپلے ہوسکیں۔ ٹیک فرمز کی کوشش ہے کہ کنزیومرز کو اب اسکرین کا متبادل پیش کریں۔ اس کے لیے ایک حیرت انگیز کلپ آپ کے کپڑوں سے منسلک کردیا جائے گا۔