آر ٹی سی ہڑتال کا کوئی اثر نہیں، نتائج کانگریس کی توقعات کے خلاف
حیدرآباد۔24 ۔ اکٹوبر(سیاست نیوز) حلقہ اسمبلی حضور نگر کے صمنی انتخاب میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے امیدوار مسٹر سیدی ریڈی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ۔ سیدی ریڈی نے اپنی قریبی حریف کانگریس امیدوار شریمتی پدماوتی کو (43,284) ووٹوں کی اکثریت سے شکست دی ۔ حضور نگر اسمبلی حلقہ کیلئے آج صبح 8 بجے سے ووٹوں کی گنتی کا اظہار ہوا اور پہلے راونڈ سے 22 ویں قطعی و آخری راؤنڈ تک ٹی آر ایس کے امیدوار سیدی ریڈی کو اکثریت حاصل ہوتی رہی اور سیدی ریڈی نے (43,284) ووٹوں کی اکثریت کے ذریعہ ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ۔ گنتی کی تفصیلات مطابق سیدی ریڈی کو جملہ (1,08,004) ووٹ حاصل ہوئے جبکہ کانگریس امیدوار شریمتی پدماوتی کو جملہ (74,638) ووٹ حاصل ہوئے ۔ علاوہ ازیں تلگو دیشم امیدوار کو (1597) ووٹ ، بی جے پی امیدوار کو (2247) ووٹ حاصل ہوئے اور آزاد امیدوار نے (2308) ووٹ حاصل کر کے تیسرا مقام حاصل کیا ۔ حلقہ حضور نگر صمنی انتخابی اعلامیہ جاری ہونے کے ساتھ ہی ٹی آر ایس نے انتخابی مہم کا آغاز کر کے شدت پیدا کی تھی لیکن جوابی انتخابی مہم میں کانگریس ٹی نے بھی ٹی آر ایس کی انتخابی مہم کا جواب دینے کی کوشش کی لیکن یہ تمام کوششیں فائدہ مند ثابت نہیں ہوئیں ۔ تلنگانہ میں آر ٹی سی ملازمین کی غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا ضمنی انتخاب پر اثر مرتب ہونے کا امکان تھا اور بالخصوص کانگریس رٹی کو توقع تھی کہ آر ٹی سی ہڑتال کی وجہ سے پارٹی کو عوامی تائید میں اضافہ ہوگا اور ٹی آر ایس کے مقابلہ میں کانگریس کو زائد ووٹ حاصل ہونگے لیکن نتیجہ کانگریس کی توقعات کے برخلاف رہا ۔
بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی ابتداء ہی سے ضمنی انتخاب میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کا ادعا کرتی رہی اور بالآخر حلقہ حضور نگر جو کہ اب تک کانگریس کا گڑھ تصور کہا جاتا تھا اب تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے گڑھ میں تبدیل ہوگیا ۔ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے امیدوار مسٹر سیدی ریڈی نے (43284) ووٹوں کی بھاری ا کثریت کے ذریعہ ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ۔ سید ریڈی کو جو اکثریت حاصل ہوئی ، اتنی سابق میں کسی پارٹی کو حاصل نہیں ہوئی جبکہ سابق میں سب سے زیادہ (29,194) ووٹوں کی اکثریت ہی حاصل رہی تھی۔