اسمبلی چناؤ کیلئے بی ایس پی کا انتخابی منشور جاری

   

کمزور طبقات کیلئے مختلف اسکیمات: پراوین کمار
حیدرآباد۔/17 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات کیلئے بی ایس پی نے انتخابی منشور جاری کیا ہے۔ پارٹی کے ریاستی صدر آر ایس پراوین کمار نے باغ لنگم پلی میں بی آر ایس قائدین اور کارکنوں کا اجلاس طلب کیا۔ انہوں نے بہوجنا بھروسہ کے عنوان سے پارٹی کا انتخابی منشور 2023 جاری کیا جس میں مختلف طبقات سے وعدے کئے گئے ہیں۔ پراوین کمار نے ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ پر برہمی کا اظہار کیا کہ انہوں نے خودکشی کرنے والی طالبہ کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بیان دیا ہے۔ کے ٹی آر کے بیان سے طالبہ کی کردار کشی ہوئی ہے۔ پراوین کمار نے کہا کہ کے ٹی آر نے دعویٰ کیا کہ پروالیکا نے پبلک سرویس کمیشن کے امتحانات میں حصہ نہیں لیا جبکہ امتحانات میں شرکت کا ثبوت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے 1.45 لاکھ بیروزگار نوجوانوں کے مستقبل سے کے سی آر حکومت کھلواڑ کررہی ہے۔ بی ایس پی نے پارٹی برسراقتدار آنے پر پانچ برسوں میں 10 لاکھ روزگار کی فراہمی کا وعدہ کیا۔ ہر منڈل میں ایک انٹر نیشنل اسکول اور ہر منڈل سے 100 طلبہ کو بیرونی ممالک میں تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ کسانوں کیلئے امدادی اسکیم اور قرضہ جات کی معافی کا وعدہ کیا گیا۔ کسانوں اور مہیلا ورکرس کیلئے مفت واشنگ مشین، اسمارٹ فون کی فراہمی کا وعدہ کیا گیا۔درج فہرست قبائیل کے طلبہ کیلئے ہاسٹل کا قیام ، مفت تعلیم کی فراہمی اور اِسکل ڈیولپمنٹ مراکز قائم کئے جائیں گے۔ ہر خاندان کو 15 لاکھ روپئے ہیلت بیمہ اسکیم فراہم کی جائے گی۔ پارٹی نے کمزور طبقات اور دلتوں کیلئے کئی وعدے کئے۔