چار سال کی تاخیر کے بعد اقدام ۔ تعمیری کاموں کو تیزی سے آگے بڑھانے پر زور
حیدرآباد ۔ 24 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد شہر کے چنچل گوڑہ ، سنتوش نگر اسٹیل فلائی اوور کو چار سال کی تاخیر کے بعد تکمیل کے لیے آخری تاریخ کے طور پر جون دی گئی ہے ۔ جی ایچ ایم سی پراجکٹس ونگ نے اہم جائیدادیں حاصل کرنے کے بعد تعمیرات میں تیزی لائی ہے ۔ پائپ لائنز اور یوٹیلیٹیز سمیت فاونڈیشن کے کام مکمل ہوچکے ہیں ۔ جی ایچ ایم سی سپرنٹنڈنٹ انجینئر ( پراجکٹس ) موہن ریڈی نے بتایا کہ 82 فیصد فزیکل کام ہوگئے جن میں گرڈ اور پیٹر کیپس بنائے گئے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایچ ایم ڈبلیو ایس ایس بی پائپ لائنوں کی منتقلی ، بجلی کی لائنوں اور زمین کے حصول کے ساتھ فاونڈیشن کا کام مکمل ہوگیا ہے ۔ یہ ڈھائی کلومیٹر کی چار لین کا فلائی اوور جو چنچل گوڑہ سے شروع ہو کر سنتوش نگر پر ختم ہوگا ۔ مرکزی ریمپ چنچل گوڑہ سے شروع ہو کر یادگیری تھیٹر پر مکمل ہوگا ۔ ایک اضافی ریمپ سعید آباد سے ہو کر آئی ایس سدن پر ختم ہوگا ۔ اس کی تکمیل کے بعد امید کی جارہی ہے کہ ٹریفک کے بہاؤ میں آسانی ہوگی ٹریفک جام سے مسافروں کو راحت ملے گی ۔ فلائی اوور کی تعمیر کے بعد ملک پیٹ ، سعید آباد ، آئی ایس سدن ، چمپا پیٹ کرمن گھاٹ اور بالا پور جانے والے ہجوم میں کمی آئے گی ۔ 2020 میں شروع کیا گیا یہ منصوبہ دو سال میں مکمل ہونا چاہئے تھا ۔ کوویڈ 19 وبائی امراض اور زمین کے حصول میں مسائل سے کاموں میں تاخیر ہوئی ۔ اب اہم جائیدادوں کے حصول کے ساتھ حکام نے کہا کہ کام تیزی سے جاری ہے اور توقع ہے کہ جون کے آخری تک مکمل ہوجائے گا ۔ مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا کہ فلائی اوور کا کام بغیر کسی تاخیر کے مکمل کیا جائے ۔ فلائی اوور کی تعمیر سے سڑک کی بندش سے تکلیف ہورہی ہے ۔ سعید آباد کے عوام نے فلائی اوور کی تعمیر میں تاخیر پر احتجاج بھی کیا تھا ۔ ایک جائیداد کے مالک جن کی زمین حصول کے مراحل میں ہے نے کہا کہ ان کی جائیداد 1998 سے تنازعات میں ہے جس کے متعدد مقدمات زیر التواء ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ معاوضہ ایک اور فریق کو دیا گیا اور اگرچہ عدالت نے اسے سٹی سیول کورٹ میں جمع کرانے کی ہدایت کی لیکن معاملہ ابھی تک حل نہیں ہوا ۔۔ ش